رخشان ڈویژن میں معدنی وسائل کے تحفظ کیلئے خصوصی سیکورٹی کوریڈور کا قیام اور ایف سی کی تعیناتی کا فیصلہ

ایڈمن
ایڈمن
6 Min Read

پاکستان کے وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے منگل کے روز بلوچستان کے رخشان ڈویژن میں معدنی وسائل اور اس سے متعلق معاشی سرگرمیوں کے تحفظ کیلئے خصوصی سیکورٹی کوریڈور قائم کرنے کی غرض سے فرنٹئیر کور (ایف سی) تعینات کرنے کی ہدایت کر دی۔

وزیر اعظم نے کوئٹہ میں نیشنل ایکشن پلان سے متعلق صوبائی ایپکس کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی، جہاں انہیں بلوچستان کی سیکورٹی صورتحال، ترقیاتی منصوبوں، گورننس اصلاحات اور انسداد دہشتگردی اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔

وزیر اعظم آفس کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق اجلاس میں مختلف امور کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے دوران وزیر اعظم نے چیف آف ڈیفنس فورسز عاصم منیر اور مسلح افواج کو بلوچستان اور ملک بھر میں دہشتگردی کے خلاف کوششوں پر خراج تحسین پیش کیا۔

انہوں نے وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی اور ان کی ٹیم کی جانب سے عوامی فلاح و بہبود کیلئے کئے گئے اقدامات کو بھی سراہا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ سیکورٹی کوریڈور میں اضافی ایف سی ونگز، شاہراہوں پر سیکورٹی چیک پوسٹس، نگرانی کے نظام اور سرحدی چوکیاں شامل ہوں گی تاکہ علاقے میں سیکورٹی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان قدرتی وسائل خصوصاً معدنیات سے مالامال ملک ہے، اور بلوچستان میں محفوظ ماحول کی فراہمی معدنی منصوبوں پر کام کرنے والی مقامی و بین الاقوامی کمپنیوں کے اعتماد کیلئے ضروری ہے۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے ضلع انتظامیہ میں تقرریوں کے عمل میں شفافیت اور میرٹ برقرار رکھنے پر بلوچستان حکومت کی تعریف بھی کی۔

انہوں نے کہا کہ جدید پولیسنگ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار میں اضافے کیلئے جدید تربیت اور نئی ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہے تاکہ عسکریت پسندی کے ناسور کا مکمل خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔

وزیر اعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وفاقی حکومت بلوچستان کے نوجوانوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے کیلئے تعلیمی مواقع، فنی و پیشہ ورانہ تربیت، روزگار اسکیموں، وظائف، ڈیجیٹل مہارتوں، کھیلوں کی سرگرمیوں اور فیصلہ سازی کے عمل میں شمولیت کو فروغ دے گی۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں انفراسٹرکچر، تعلیم، صحت اور مواصلات کے منصوبوں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ نوجوانوں کو مساوی ترقی کے مواقع اور بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے حکام نے بتایا کہ عسکریت پسندی کے مکمل خاتمے کیلئے تمام ادارے متحرک ہیں جبکہ نوجوانوں کی فلاح و بہبود اور اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرامز پر بھی کام جاری ہے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ نومبر 2024 کے بعد بلوچستان میں پولیو کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔ مزید بتایا گیا کہ کینسر انسٹی ٹیوٹ، ڈائیلاسز سینٹرز اور ٹراما سینٹرز سمیت کئی صحت کے منصوبے فعال ہو چکے ہیں جبکہ مزید منصوبوں پر کام جاری ہے۔

حکام کے مطابق بلوچستان میں 99 فیصد اسکول کھلے ہیں اور تعلیمی سرگرمیاں بلا تعطل جاری ہیں۔ اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ شمسی توانائی منصوبے سے 15 ہزار سے زائد گھرانے مستفید ہوئے ہیں جبکہ اب تک تقریباً 105 ارب روپے کی بچت رپورٹ کی گئی ہے۔

اجلاس میں آرمی چیف اور چیف آف ڈیفنس فورسز عاصم منیر، وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی، وفاقی وزراء خواجہ آصف، احسن اقبال، سید محسن رضا نقوی، عطا اللہ تارڑ، خالد مگسی، جام کمال خان، وزیر اعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

یاد رہے کہ یہ اجلاس ایک ایسے وقت میں ہواجہاں بلوچستان کے معدنی شعبے میں ریاستی لوٹ کھسوٹ میں تیز کے بعد بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیموں نے اپنی کارروائیاں تیز کردی ہیں۔اور ضلع چاغی ، ضلع نوشکی سمیت دالبندین اور مستونگ میں کوئٹہ – تفتان مرکزی شاہراہوں پر ناکہ بندی اور اسنیپ چیکنگ جاری ہے ۔

اب تک کی اطلاعات کے مطابق ضلع نوشکی سمیت دالبندین اور مستونگ میں کوئٹہ – تفتان مرکزی شاہراہ بدستور بلوچ لبریشن آرمی کے زیر کنٹرول، شاہراہوں پر چیک پوائنٹس قائم و اسنیپ چیکنگ جاری ہے۔معدنی پروجیکٹس سے تعلق رکھنے والے 20 افراد گرفتار کئے گئے جن میں 3 کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں ۔

گزشتہ ہفتے کے دوران ضلع نوشکی میں سیندک سے سونا اور دیگر معدنیات لے جانے والی بیس سے زائد ٹرالر گاڑیوں اور ان کی سیکیورٹی پر مسلح افراد کی بڑی تعداد نے راکٹوں اور دیگر ہتھیاروں سے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں 8 سے زائد گاڑیاں تباہ ہوگئیں۔ اس حملے میں پاکستانی فورسز کے 6 سے زائد اہلکار بھی ہلاک ہوئے تھے۔

مذکورہ واقعات کی ذمہ داری بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کرتے ہوئے کہا تھا کہ بلوچ وسائل کی لوٹ مار میں ملوث گاڑیوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کو حملوں میں نشانہ بنایا گیا۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article