بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ اور نوشکی میںبراہوئی زبان کے نامور شاعر و ادیب اور استاد پروفیسر غمخوار حیات کی یاد میں تعزیتی واک کا انعقادکیا گیاجس میں شمعے روشن کئے گئے اور انہیں خراج عقیدت پیش کیا گیا۔
نوشکی میں پروفیسر غمخوارحیات کی یاد میں نوشکی کے مینگل روڈ پر ایک تعزیتی واک کا انعقاد کیا گیا۔
واک میں طلبہ، اساتذہ، ادبی شخصیات، سماجی کارکنوں اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
شرکاء نے پروفیسر غمخوار حیات کی علمی، ادبی اور تدریسی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی براہوی زبان و ادب کے فروغ، نوجوان نسل کی فکری تربیت اور شعور کی بیداری کے لیے وقف کر رکھی تھی۔
شرکاء کا کہنا تھا کہ پروفیسر غمخوار حیات کی شہادت بلوچستان کے علمی، ادبی اور فکری حلقوں کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہید دانشور کا قلم، فکر اور علمی ورثہ ہمیشہ زندہ رہے گا اور آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوگا۔
واک کے شرکاء نے پروفیسر غمخوار حیات کے قتل کی شفاف تحقیقات اور ذمہ دار عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اہلِ قلم، اساتذہ اور دانشوروں کا تحفظ یقینی بنانا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
اسی طرح پروفیسر اور اسکالر غمخوار حیات کی گراں قدر خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشنز الائنس (بشمول بی ایس اے سی، بی ایس او اور بی ایس او پجار) کی جانب سے کوئٹہ میں ایک تعزیتی واک کا اہتمام کیا گیا۔
واک کے اختتامی موقع پر، بلوچ ادب کے لیے ان کی انتھک خدمات اور تعلیمی شعبے میں ان کی لگن کو سراہنے کے لیے شمعیں روشن کی گئیں۔
ایک طلبہ تنظیم کی حیثیت سے ہمارا یہ پختہ یقین ہے کہ ہمارے اساتذہ، پروفیسرز، دانشور اور اسکالرز ہمارے معاشرے اور قوم کے مثالی ستون ہیں، جن کے بغیر ہم کسی بھی صورت آگے نہیں بڑھ سکتے۔ پروفیسر غمخوار حیات کی رحلت ہماری ادبی کمیونٹی کے لیے ایک عظیم اور المناک نقصان ہے۔