بلوچستان میں معدنیات سے لدے ٹرکوں پر آزادی پسند بلوچ تنظیموں کے حملوں کے بعد ٹرانسپورٹرز نے ہڑتال کا اعلان کیا ہے اور تمام منرلز کی ترسیل فوری طور پر معطل کردی ہے ۔
بلوچستان میں معدنیات لے جانے والی گاڑیوں پر حالیہ حملوں کے بعد بلوچستان کی ٹرانسپورٹ انڈسٹری میں شدید بے چینی پیدا ہوگئی ہے۔
بلوچستان گڈز ٹرک اونرز ایسوسی ایشن نے تمام ٹرانسپورٹرز کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ فوری طور پر معدنیات کی لوڈنگ اور ترسیل روک دیں۔
ایسوسی ایشن کے مطابق مسلسل حملوں کے باعث ڈرائیور اور عملہ شدید عدم تحفظ کا شکار ہیں۔
ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتوں میں مختلف علاقوں میں معدنیات لے جانے والے ٹرکوں کو نشانہ بنایا گیا، متعدد گاڑیوں کو نذرِ آتش کیا گیا اور کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ ان واقعات کے بعد ٹرانسپورٹرز نے فیصلہ کیا ہے کہ سیکورٹی کی صورتحال بہتر ہونے تک کوئی گاڑی منرلز نہیں اٹھائے گی۔
یاد رہے کہ ان حملوں کی ذمہ داری بی ایل اے اور بی ایل ایف قبول کر چکی ہے۔
دوسری جانب بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیمیں طویل عرصے سے یہ مؤقف دہرا رہی ہیں کہ بلوچستان کے معدنی وسائل بلوچ قوم کی ملکیت اور امانت ہیں، اور ان کی "لوٹ کھسوٹ” کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔
ان تنظیموں نے بارہا خبردار کیا ہے کہ غیر ملکی کمپنیوںخصوصاً چین، کینیڈا اور دیگر ممالک کو بلوچستان کے معدنی شعبے میں سرمایہ کاری کی اجازت دینا بلوچ عوام کے حقوق پر حملہ ہے۔
مزید یہ کہ ان منصوبوں کی سیکورٹی کی ذمہ داری پاکستان آرمی کے پاس ہے، تاہم متعدد غیر ملکی کمپنیوں نے حملوں کے بعد سیکورٹی انتظامات پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ دالبندین، چاغی، ماشکیل اور دیگر علاقوں میں ہونے والے حملوں کے بعد سرمایہ کاروں نے خدشات ظاہر کیے ہیں کہ موجودہ حالات میں بلوچستان میں منرلز سیکٹر میں سرمایہ کاری انتہائی خطرناک ہو چکی ہے۔
ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کے بعد خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ریکوڈک، سیندک اور دیگر بڑے منصوبوں میں معدنیات کی ترسیل مکمل طور پر رک جائے گی، جس سے نہ صرف پاکستانی معیشت متاثر ہوگی بلکہ غیر ملکی سرمایہ کاری پر بھی منفی اثر پڑے گا۔