پنجگور ، کچلاک اور دالبندین میں فائرنگ سے 6 افراد ہلاک، نوجوان اغوا

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read
The dead man's body. Focus on hand

بلوچستان کے علاقے پنجگور میں مسلح افراد کی گاڑی پر فائرنگ سے 3 افراد ہلاک اور 5 زخمی ہوگئے جبکہ کچلاک میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے 2افراد ہلاک ہوگئے جن کا تعلق خیبر پختونخوا سے بتایا جارہا ہے۔اسی طرح دالبندین میں اغوا کی ایک واردات میں فائرنگ سے ایک نوجوان ہلاک ہوگیا اورایک کو اغوا کرلیا گیا۔

ضلع پنجگور سے اطلاعات ہیں کہ گوارگو فتح علی کے علاقے میں نامعلوم مسلح افراد کی جانب سے ایک گاڑی پر فائرنگ کے نتیجے میں 3 افراد موقع پر ہی ہلاک جبکہ پانچ زخمی ہوگئے۔

ذرائع کے مطابق مسلح افراد نے گاڑی کو نشانہ بنا کر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے باعث گاڑی میں سوار متعدد افراد زخمی ہوئے۔

واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

اطلاعات کے مطابق زخمیوں کو فوری طور پر قریبی طبی مراکز منتقل کیا گیا، تاہم تاحال ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی شناخت سامنے نہیں آسکی ہے۔

واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کردی ہیں ۔

واقعہ کے محرکات تاحال سامنے نہیں آسکے۔

دوسری جانب بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ سے متحصل کچلاک بازار میں وزیر آباد روڈ پر واقع کمرشل پلازہ میں مسلح افراد کی فائرنگ سے 2 افراد ہلاک ہوگئے۔

ہلاک ہونے والوں کی شناخت محمد حسن اور محمد عاطف کے ناموں سے ہوگئی ہے جو آپس میں بھائی اور ان کا تعلق پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے مردان سے ہے۔

پولیس کے مطابق کہ دونوں مزدور ہیں جو کمرشل پلازہ میں مزدوری کا کام کررہے تھے جہاں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے انہیں قتل کر دیا اور فرار ہو گئے۔

کچلاک پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں مقتول بھائیوں کی لاشوں کو تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لئے سول ہسپتال کوئٹہ منتقل کر دیا گیا اور مزید کاروائی کچلاک پولیس تھانہ کر رہی ہے۔

علاوہ ازیں دالبندین سے اطلاعات ہیں کہ مبینہ طور پر نامعلوم اغواء کاروں کی فائرنگ کے نتیجے میں ایک نوجوان ہلاک جبکہ ایک شدید زخمی ہو گیا، جبکہ اغواء ہونے والے 16 سالہ لڑکے کی بازیابی کے لیے تلاش جاری ہے۔

جمعرات کی شام دالبندین کے نواحی علاقے کلی قاسم خان کے قریب مسلح اغواء کاروں نے حاجی صدیق درانی کے 16 سالہ نواسے کو اسلحہ کے زور پر اغواء کرکے اپنے ساتھ لے گئے۔

واقعے کے فوری بعد مقامی افراد نے اغواء کاروں کا تعاقب کیا، جس دوران ملزمان اور تعاقب کرنے والوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

فائرنگ کے نتیجے میں محمد اعظم انشینی اور ابرار شدید زخمی ہو گئے، جنہیں فوری طور پر پرنس فہد اسپتال دالبندین منتقل کیا گیا۔

ابتدائی طبی امداد کے بعد دونوں زخمیوں کو تشویشناک حالت میں کوئٹہ ریفر کیا جا رہا تھا کہ محمد اعظم انشینی راستے میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے، جبکہ دوسرے زخمی ابرار کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق اغواء کار مغوی نوجوان کو اپنے ساتھ لے جانے میں کامیاب ہوگئے، جبکہ واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

کہا جارہا ہے کہ مقامی انتظامیہ اورسیکورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے، جبکہ واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں ۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article