بلوچستان لبریشن فرنٹ( بی ایل ایف) کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری بیان میں 4 مختلف کارروائیوں میں 7 فوجی اہلکار وں کی ہلاکت ، پولیس اہلکاروں سے اسلحات ضبط اور موبائل ٹاور تباہ کرنے کی ذمہ داری قبول کرلی۔
ترجمان کے مطابق بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے 10 مئی 2026 کو سوراب کے علاقے بینچہ میں آر سی ڈی شاہراہ پر گھات لگا کر قابض پاکستانی فوج کے قافلے کو راکٹ لانچرز، چھوٹے مشین گنز اور دیگر خود کار ہتھیاروں سے اس وقت حملے کا نشانہ بنایا جب فوجی قافلہ ایک کیمپ سے دوسرے کیمپ کی طرف جا رہی تھی۔ دو گاڑیاں مکمل طور پر حملے کی زد میں آئیں جس کے نتیجے میں قابض فوج کے 5 اہلکار ہلاک اور 4 زخمی ہو گئے، جبکہ حملے کی زد میں آنے والی دونوں گاڑیاں مکمل طور ناکارہ ہو گئیں۔
انہو ں نے کہا کہ حملے کے فوراً بعد، بینچہ چیک پوسٹ سے دشمن کی کمک کیلئے مزید نفری نے پیش قدمی کرنے کی کوشش کی مگر وہاں موجود پہلے سے پوزیشن سنبھالے ہوئے سرمچاروں نے فوجی قافلے کی کُمکّ کیلئے حرکت میں آنے والے دستوں پر بھی حملہ کر کے انہیں پسپا کر دیا۔ جس سے قابض فوج کو مزید جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
ان کا کہنا تھا کہ سرمچاروں نے 10 مئی 2026 کو خاران کے علاقے تاگزّی میں مرکزی پل پر قائم فرنٹیر کور (ایف سی) کی چیک پوسٹ کو حملے کا نشانہ بنایا۔ سرمچاروں نے اس کارروائی میں راکٹ لانچر، گرنیڈ لانچر اور دیگر خودکار ہتھیاروں کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں فورسز کے دو اہلکار موقع پر ہلاک اور تین زخمی ہو گئے۔
بیان میں کہا گیا کہ سرمچاروں نے 7 مئی 2026 کو کولواہ کے علاقے مالار دمب میں نصب جاسوسی اور نگرانی کے آلات سے لیس مواصلاتی ٹاور پر فائرنگ کر کے اسے ناکارہ بنا دیا اور متعلقہ مشینری کو نذرِ آتش کر دیا۔
میجر گہرام بلوچ نے مزید کہا کہ اسی دوران قریبی فوجی کیمپ کے اہلکاروں نے سرمچاروں کو مختلف اطراف سے گھیرنے کی کوشش کی، تاہم سرمچاروں نے بروقت جوابی کارروائی کرتے ہوئے فوج پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں قابض فوج پسپا ہونے پر مجبور ہو گئی۔ اس جھڑپ میں فوج کو جانی نقصان بھی اٹھانا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ سرمچاروں نے 6 مئی 2026 کو مستونگ اڈہ پر پولیس کی ایگل فورس کی گشتی ٹیم پر حملہ کر کے انھیں گرفتار کیا اور ان سے ایک کلاشنکوف قبضے میں لے لی، تاہم پوچھ گچھ کے بعد پولیس اہلکاروں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رہا کر دیا گیا۔
آخر میں ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ سوراب، خاران، کولواہ اور مستونگ میں پاکستانی فوج اور فوجی قافلے، پولیس اہلکاروں، اور مواصلاتی نظام پر ہونے والے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔