جبری لاپتہ حیرالنسا میڈیا کے سامنے پیش، اسلام آباد میں خودکش حملہ کرنے جا رہی تھی،سرفراز بگٹی

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

گذشتہ سال 20 دسمبر 2025 کو بلوچستان کے صنعتی شہر حب میں گھر سے پاکستانی فورسز کے ہاتھوں لاپتہ ہونے والے بلوچ خاتون حیر النساکو 6 ماہ بعد میڈیا کے سامنے پیش کردیا گیا ہے جہاں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ اسلام آباد میں خودکش دھماکے کرنے جارہی تھی جسے فورسز نے گاڑی سے گرفتار کیا تھا۔

یاد رہے کہ حیر النسا کے ساتھ اس کی ایک رشتہ دار 7 ماہ کی حاملہ ہانی دلوش کو بھی جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا تھا جس کی تاحال کوئی خبر نہیں ہے۔

بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ میںجبری لاپتہ حیر النسا کو میڈیا کے سامنے پیش کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا گیا کہ انھیں کالعدم تنظیموں نے اسلام آباد میں خودکُش حملے کے لیے تیار کیا تھا۔

اس موقع پر کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے دیگر حکام کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ریاستی اداروں نے اس کو ناکام بنایا۔

اس موقع پر خیرالنسا کے والد بھی موجود تھے۔

پریس کانفرنس کے دوران نہ صرف صحافیوں سے درخواست کی گئی کہ وہ خاتون سے کوئی سوال نہ کریں بلکہ وزیر اعلیٰ نے بھی کہا کہ خاتون کی حالت ایسی نہیں ہے کہ وہ کسی سوال کا جوب دیں بلکہ انھوں نے کہا کہ سوالات کا جواب وہ دیں گے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’حیرالنساء کے بارے میں پہلے یہ معلوم ہوا کہ وہ لاپتہ ہوگئی ہیں جس پر خفیہ اداروں نے کارروائی کا آغاز کیا جس کے دوران یہ پتہ چلا کہ وہ لاپتہ نہیں بلکہ ایک کالعدم تنظیم کے کیمپ میں تربیت حاصل کررہی ہے۔‘

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’نہ صرف اس خاتون کا استحصال کیا گیا بلکہ ان کو یہ دھمکی دی گئی کہ اگر انھوں نے خود کُش حملہ نہیں کیا تو ان کے والد کو بھی ماردیا جائے گا۔‘

انھوں نے بتایا کہ ان خاتون نے جب اسلام آباد جانے کے لیے تربت سے بس میں سفر کا آغاز کیا تو خفیہ اداروں کو اس بارے میں معلوم ہوا جس پر ان کو گرفتار کرلیا گیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اگر یہ خاتون اسلام آباد پہنچتی اور خودکُش حملہ کرنے میں کامیاب ہو جاتیں تو نہ صرف وہاں انسانی جانوں کا ضیاع ہوتا بلکہ اس سے دنیا بھر میں پاکستان کی ساکھ کو بھی شدید نقصان پہنچتا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہماری قیادت کی وجہ سے پاکستان نے بین الاقوامی سطح پر جس انداز سے اپنا امیج بنایا ہے، دُشمن کی یہ کوشش ہے کہ کس طرح اس کو متاثر کیا جائے لیکن ہمارے خفیہ اداروں نے اس سازش کو ناکام بنایا۔‘

انھوں نے کالعدم تنظیموں پر الزام لگایا کہ ہم اپنے خواتین کے لیے ہارودڑ اور آکسفرڈ کے دروازے کھول رہے ہیں جبکہ کالعدم تنظیمیں ان کو خودکُش جیکٹ پہنا رہی ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ گرفتار ہونے والی خاتون کو ان کے والدین کے حوالے کر رہے ہیں اور ان سے یہ درخواست کرتے ہیں کہ وہ اپنی بچی پر نظر رکھیں۔‘

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’تاریخ میں بلوچ خواتین کبھی بھی کسی جنگ کا حصہ نہیں رہی ہیں بلکہ وہ امن کا حصہ رہی ہیں اور انھوں نے ہمیشہ امن کے لیے کردار ادا کیا مگر ان کے بقول کالعدم تنظیمیں ان کو جنگ میں دھکیل رہی ہیں۔‘

واضع رہے کہ ماضی میں بھی خفیہ اداروں بشمول سول حکام پریس کانفرنسز کے ایسے ڈرامے رچھا چکی ہیں جہاں کئی جبری لاپتہ بلوچ خواتین کو ایسی ہی پریس کانفرنس میں پیش کرکے بلوچ آزادی پسند تنظیموں کے خلاف پروپیگنڈہ کی گئی تھی۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article