بلوچ یکجہتی کمیٹی ( بی وائی سی )نے سندھ حکومت کی جانب سے عورت مارچ کے پروگرام میں بی وائی سی کی شرکت کو روکنا اور کالعدم کہنے کے عمل کوبلوچ قوم کے خلاف ریاستی فاشزم قرار دیاہے۔
میڈیا کو جاری بیان میں بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کہا کہ سندھ حکومت کی جانب سے عورت مارچ کے شرکاء کو مارچ منعقد کرنے کے لیے مشروط اجازت نامے میں بلوچ یکجہتی کمیٹی اور JSQM کو کالعدم تنظیم کہنا اور ان کی شرکت پر پابندی ریاستی فاشزم کی انتہاء ہے۔ ہمارا ریاست سے بنیادی سوال یہ ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کو کب اور کس عدالت یا قانون نے کالعدم قرار دیا ہے؟ آج تک خود پاکستان کے کسی بھی عدالت نے بی وائی سی کو کالعدم قرار نہیں دیا، کیونکہ بی وائی سی ایک پر امن سیاسی تنظیم ہے اور اسے کالعدم قرار دینے کے لیے ریاست کے پاس کوئی قانونی جواز موجود نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان میں انسانی حقوق، جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت اقدامات اور بلوچ نسل کشی کے خلاف ایک جمہوری عوامی تحریک ہے۔ گزشتہ ایک سال سے ریاست مسلسل اس عوامی تحریک کو تشدد کے زور پر کچلنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس پورے ایک سال سے زاہد عرصے کے دورانیے میں ریاست بی وائی سی کے خلاف ایک بھی قانونی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہی اور نہ ہی ریاست کے پاس بی وائی سی کے خلاف سیاسی و قانونی دلیل موجود ہے اس لیے ریاست بی وائی سے کے خلاف طاقت کے بے دریغ استعمال کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بی وائی سی کے رہنماؤں کو غیر قانونی اور غیر آئینی طور پر طویل عرصے سے قید رکھا گیا ہے۔ ان پر قائم کیے گئے مقدمات قابلِ ضمانت ہونے کے باوجود انہیں ضمانت کے بنیادی حق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ ہزاروں بلوچ سیاسی کارکنوں کے خلاف انسدادِ دہشت گردی کے قوانین کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔ اے ٹی اے اور فورتھ شیڈول جیسے قوانین، جو دہشت گردی کے خلاف بنائے گئے تھے، آج پرامن سیاسی کارکنوں، طلبہ اور انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھانے والوں پر لاگو کیے جا رہے ہیں۔
تنظیم کا کہنا تھا کہ اس پس منظر میں سندھ حکومت کی جانب سے عورت مارچ پر ایسی شرائط عائد کرنا، جن میں بی وائی سی کو کالعدم کہہ کر الگ کرنا، نہایت شرمناک اور قابلِ مذمت عمل ہے۔ یہ تمام حقائق واضح کرتے ہیں کہ ریاست قانون اور طاقت کو بلوچ عوام کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کررہا ہے تاکہ ہر صورت بلوچ آواز کو دیوار سے لگایا جا سکے۔
بیان میں کہا گیا کہ ہم اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، جبری گمشدگیوں، سیاسی انتقام اور ریاستی جبر کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرتے رہیں گے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ ہم دنیا بھر کے انسانی حقوق کے اداروں، خواتین کی تحریکوں، جمہوری قوتوں اور انصاف پسند عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بلوچ یکجہتی کمیٹی اور بلوچ عوام کے پرامن جدوجہد کے ساتھ کھڑے ہوں۔