جبری گمشدگیوں کے خلاف وی بی ایم پی کے احتجاج کا 5849 واں دن

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

شال پریس کلب کے سامنے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کا احتجاجی کیمپ وی بی ایم پی کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ کی سربراہی میں جاری ہے۔ جمعہ کے روز بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) اور بی ایس او پجار کے وفود نے کیمپ آ کر جبری لاپتہ افراد کے لواحقین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا۔

انھوں نے کہا کہ جبری گمشدگی کا معاملہ کسی ایک فرد کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری انسانیت کے خلاف ایک عمل ہے جس کے خلاف بلوچ قوم بالخصوص سیاسی جماعتوں کو آواز اٹھانی چاہیے۔

وفود نے ماما قدیر کے ساتھ گفتگو کے دوران جبری لاپتہ افراد کی بازیابی کی تحریک کی مکمل حمایت کا اظہار کیا اور تمام جبری لاپتہ افراد کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا۔

ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ جبری لاپتہ افراد کے لیے سیاسی جماعتوں کی طرف سے مربوط و منظم آواز نہ اٹھانے کی وجہ سے ریاست کو لوگوں کو جبری طور پر لاپتہ کرنے کی چھوٹ ملی ہوئی ہے۔ جو نوجوان جبر و انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں انھیں قید و بند کا سامنا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ماہ جبین کی گمشدگی ایک تشویشناک عمل ہے اور انھیں فوری طور پر بازیاب کیا جائے۔ اسی طرح بی وائی سی کے رہنماؤں کو بھی بے گناہ ہونے کے باوجود قید کی سزا بھگتنی پڑ رہی ہے جس کی وجہ سے بلوچستان کی عوام صدمے اور غم و غصے کی حالت میں ہیں۔ بلوچستان کی سیاسی آزادی کی بحالی بے حد ضروری ہے۔

جمعہ کے روز بی این ایم کے رہنما ایڈوکیٹ حسن مینگل، جنرل سیکریٹری بی این پی بارکھان شاہنواز کھیتران، بی این پی کے کارکن اسلم جان کھیتران، بی ایس او پجار کے سینئر وائس چیئرمین بابل ملک اور جوائنٹ سیکریٹری طارق بلوچ نے کیمپ کا دورہ کیا اور اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article