خضدارسے لڑکی اغوا، عدم بازیابی پر دھرنا دیں گے، لواحقین کی پریس کانفرنس

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

خضدار کے علاقہ کانک کی رہائشی خاتون بی بی درخاتون نے اپنے خاندان کی دیگر خواتین کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 7 اپریل 2025 کی شب تقریباً 6 مسلح افراد ہمارے گھر میں داخل ہوکر میری 16 سالہ بیٹی نصرت بی بی کو اغواءکرکے لے گئے اس دوران مجھ سمیت گھر کی دیگر خواتین کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا اور گھر سے موبائل وغیرہ بھی اٹھا کرلے گئے، اس دوران کھینچا تھانی میں ایک ملزم کے چہرے سے نقاب اتارا جس کی ہم نے آیف آئی آر پولیس تھانہ خضدار میں درج کرکے نشاندہی کی۔

مسماۃ درخاتون کا کہنا تھا کہ پولیس نے آیف آئی آر میں نامزد ایک ملزم کو ہماری نشاندہی پر گرفتار ضرور کیا ہے مگر اسے تھانے میں مہمانوں کی طرح رکھا گیا ہے، نہ اس سے تفتیش ہو رہی ہے اور نہ ہی پولیس مغویہ کو بازیاب کروا رہی ہے۔ میری بیٹی کے اغواءکو 20 دن گزرگئے ہیں ہم کس کرب و پریشانی سے دو چار ہیں، اللہ جانتا ہے، پولیس خصوصاً ایس ایچ او سٹی کی مبینہ غفلت، طرف داری اور مبینہ طور پر ملزم سے نرم رویہ رکھنے کی وجہ سے ہماری سولہ سالہ کم سن بیٹی نصرت نامزد ملزمان کے قبضے سے بازیاب نہیں ہوپا رہی ہے، ایف آئی آر میں نامزد ملزم صدام کے علاوہ دیگر جن ملزمان کو نامزد کیا ہے پولیس انہیں گرفتار کرنے سے پس وپیش سے کام لے رہی ہے۔

انہوںنے کہا کہ ہم وزیراعلیٰ بلوچستان، آئی جی پولیس بلوچستان، ڈی آئی جی پولیس قلات رینج اور ایس ایس پی خضدار سے دردمندانہ اپیل کرتے ہیں کہ گرفتار ملزم سے بہتر تفتیش کرکے مغویہ کو بازیاب کروائیں اگر پولیس آج صبح تک مغویہ کو بازیاب نہیں کرواتی تو صبح 8 آٹھ بجے ہم قرآن پاک ہاتھ میں لے کر کوئٹہ کراچی شاہراہ پر دھرنا دیں گے اور اس وقت تک روڈ بلاک ختم نہیں کرینگے ۔ جب تک ہماری بیٹی کو بازیاب کرکے ملزمان کو کیفر کردار تک نہیں پہنچایا جاتا۔

مسماۃ در خاتون کا کہنا ہے کہ جن ملزمان کی ہم نے ایف آئی آر میں نشاندہی کی ہے وہ با اثر ہیں، پولیس ان کیخلاف موثر کارروائی نہیں کررہی، جس سے ہمیں خدشہ ہے کہ ہماری بچی کو جانی نقصان نہ پہنچایا جائے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article