پاکستانی تاجر نے چینی کمپنی کو معدنیات بجائے ساڑھے 11 کروڑ کے مٹی بھیج دی

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کے کوآپریٹو کرائم سرکل کے عملے نے چینی کمپنی کو معدنیات کی بجائے 11 کروڑ روپے کے عوض 60 کنٹینرز میں مٹی اور بجری ڈال کر بھیجنے کے الزام میں تاجر کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کر لیا۔

ایف ائی اے حکام کے مطابق کارپوریٹ کرائم سرکل کراچی میں میسرز ڈنزو ٹریڈرز کے مالک سید ذیشان افضل بلگرامی کے خلاف مقدمہ درج کرکے انہیں گرفتار کرلیا گیا ہے، ایف آئی آر فوجداری انکوائری کے بعد درج کی گئی جو ایک چینی درآمد کنندہ کمپنی میسرز ڈینزو ٹریڈرز مس کورائن چن کی شکایت پر شروع کی گئی تھی۔

مقدمے کے مطابق ملزم سید ذیشان افضل بلگرامی اور چینی درآمد کنندہ جیانگسو پراونشل فارن ٹریڈ کارپوریشن نے 17 جنوری 2024 کو ایک معاہدے پر دستخط کیے جس کے تحت ڈانزو ٹریڈرز کراچی نے 1500 میٹرک ٹن کروم ایسک چین میں مذکورہ چینی کمپنی کو درآمد کرنا تھی۔

11 فروری کو Danzu Traders نے کراچی کی بندرگاہ سے Xingang چائنا کی بندرگاہ پر کنٹینرز کی کھیپ بھیجی جس میں قیمتی دھات کروم ایسک کی بجائے مٹی، بجری اور پتھر بھرے ہوئے تھے۔

مقدمہ کے مطابق مذکورہ کھیپ چین پہنچنے سے پہلے ہی ملزم سید ذیشان افضل بلگرامی نے اپنی کمپنی کے بینک اکاؤنٹ میں رکھے ہوئے مذکورہ ایل سی کو دھوکہ دہی سے انجام دیا، بینک میں انسپکشن سرٹیفکیٹ آف کوالٹی اور ویٹ جمع کی جعلی اور بوگس دستاویزات جمع کرائیں۔

مقدمے کے مطابق ملزم سید ذیشان افضل بلگرامی نے نہ صرف برآمدی دھوکہ دہی کا مرتکب ہوا بلکہ اپنے حق میں ایل سی پر عمل درآمد کے لیے جعلی، من گھڑت اور بوگس دستاویزات پیش کرکے بینکنگ فراڈ کا بھی ارتکاب کیا، ملزم نے نا صرف چینی درآمد کنندہ کو دھوکہ دیا بلکہ قوم و ملک کا نام بھی بدنام کیا۔

حکام کے مطابق ملزم ذیشان کو بھی آئی آئی چندریگر روڈ پر واقع ان کے دفتر سے گرفتار کرلیا گیا ہے۔

کروم ایسک ایک قدرتی معدنیات ہے جس میں کرومیم، آئرن اور آکسیجن ہوتا ہے اور اس کا استعمال اسٹین لیس سٹیل میں ایک اہم جزو فیرو کروم بنانے کے لیے کیا جاتا ہے۔

واضع رہے کہ پاکستان میں معدنیات کے کاروبار میں فوج سے وابستہ جنرل وافسران مکمل وابستہ ہیں۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment