بلوچستان میں بی ایل اے کی فدائی آپریشن ہیروپ جاری ہے۔کئی شاہراہوں پر مسلح افراد کی ناکہ بندی ہے جس سے ٹریفک مکمل معطل ہے۔
جبکہ جاری حملوں و دھماکوں سے سرکاری سطح پراب تک 34 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوگئی ہے۔
دوسری جانب بی ایل اے کے جاری بیانات میں اب تک 118 فورسز ہلکاروں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا ہے ۔
قلات میں مسلح افرادکی فائرنگ سے پولیس اور لیویز اہلکاروں سمیت 10 افراد ہلاک ہوگئے۔
ایس ایس پی قلات دوستین دشتی کے مطابق فائرنگ سے پولیس کاسب انسپکٹر، 4 لیویز اہلکار اور 5 شہری ہوئے۔
ایس ایس پی قلات کا بتانا ہے کہ فائرنگ کے بعد حملہ فرار ہوگئے جس کے بعد علاقہ کلیئرکرنےکا سلسلہ جاری ہے۔
اسی طرح گزشتہ رات موسیٰ خیل کے علاقے راڑہ شم میں بھی مسلح افراد نے 23 افراد کو گاڑیوں سے اتار کر فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا۔
بی ایل اے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ان بسوں میں فورسز اہلکار سادہ کپڑوں میں سفر کر رہے تھے۔
ایس ایس پی موسیٰ خیل ایوب اچکزئی کے مطابق تمام افراد کو ٹرکوں اور مسافر بسوں سے اتار کر فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا۔
ایوب اچکزئی کا کہنا ہے کہ مسلح افراد نے بین الصوبائی شاہراہ پر ناکہ لگاکر مسافروں کو بسوں سے اتارا۔
ان کا بتانا ہے کہ مسلح افراد نے 10 گاڑیوں کو بھی آگ لگادی، پولیس، لیویز موقع پر پہنچیں اور لاشوں کو اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مزید تحقیقات کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے۔
ترجمان حکومت بلوچستان شاہد رند نے پاکستانی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موسیٰ خیل کا علاوہ ڈیرہ غازی خان سے ملتا ہے اور چھوٹی شاہراؤں پر عموماً اتنی زیادہ سکیورٹی نہیں ہوتی،عسکریت پسندوں نے رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مسافروں کو قتل کیا۔