چمن میں دھرنا مظاہرین پرپاکستانی فورسز کا حملہ و تشدد کے بعدمتعددگرفتارکرلئے گئے جس سے حالات کشیدہ ہوگئے ہیں۔
بلوچستان کے افغانستان سے ملحق علاقہ چمن میں افغان بارڈر پر پاسپورٹ سسٹم رائج کرنے کیخلاف گزشتہ چار ماہ سے احتجاجی دھرنا چمن پاک افغان بارڈر شاہراہ پر جاری ہے۔
اتوار اور پیر کی درمیانی شب دھرنا منتظمین نے اپنے احتجاج کو سخت کرتے ہوئے چمن پاسپورٹ آفس کے سامنے کنٹینر لگا کر پاسپورٹ آفس بند کردیا تھا۔
انتظامیہ اور ایف سی کی جانب سے رات گئے پاسپورٹ آفس کے سامنے احتجاجی کیمپ پر چھاپہ مارا اور پاسپورٹ آفس کے سامنے سے کنٹینر اٹھا دیے۔
مزاحمت پر ایف سی نے لوگوں کو تشدد کا نشانہ بناکر صادق اچکزئی سمیت متعدد افراد گرفتار کرلئے۔
اس عمل کے نتیجے میں آج دھرنا کنوینر مولوی عبدالمنان، جنرل سیکرٹری غوث اللہ ودیگر رہنماؤں کی جانب سے چمن میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی اور چمن کوئٹہ بین الاقوامی شاہراہ پر رکاوٹیں کھڑی کرکے شاہراہ ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کردی گئی۔
مظاہرین نے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کے سامنے دھرنا دیااور ایف سی قلعہ پر پتھراؤ کیا۔
مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ایف سی حکام نے آنسو گیس کی شیلنگ کی تاہم مظاہرین ایف سی قلعے اور ڈی پی او آفس کے سامنے بڑی تعداد میں موجود ہیں اور کسی بھی وقت حالات خرابی کی طرف جاسکتے ہیں۔
احتجاجی دھرنے سے جنرل سیکرٹری اور لغڑی اتحاد کے رہنما غوث اللہ اچکزئی نے میڈیا کو بتایا کہ دھرنا ترجمان صادق اچکزئی و دیگر مظاہرین کی رہائی تک چمن کوئٹہ شاہرہ ایف سی اور ڈی پی او آفس کے سامنے احتجاج جاری رہے گا۔
جبکہ دوسری جانب بلوچستان کے نگران وزیر اطلاعات جان اچکزئی نے دعوٰی کیا ہے کہ مقامی عمائدین کی ضمانت پر چار زیر حراست مظاہرین کی رہائی کے بعد چمن میں صورتحال معمول پر آ گئی ہے۔
لیکن اس حوالے سے چمن دھرنا کمیٹی کے نمائندے فیض محمد نے کہنا ہے کہ انتظامیہ سے جرگے کے مذاکرات ہوئے ہیں لیکن تاحال محمد صادق سمیت کسی گرفتار شخص کو رہا نہیں کیا گیا۔ فی الحال عوام کی گزارش پر ہم نے راستہ عارضی طور پر کھول دیا گیا ہے، جب تک ساتھیوں کو نہیں چھوڑتے تب تک شاہراہ بند اور شٹر ڈاؤن بھی جاری رہے گا۔