تربت: جبری گمشدگی کے شکار افراد کے لواحقین کا احتجاجی ریلی ومظاہرہ

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچستان کے ضلع کیچ کے مختلف علاقوں سے پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی کے شکارافراد کے لواحقین نے پیر کو تربت شہرمیں ریلی نکال کراحتجاجی مظاہرہ کیا۔

احتجاجی ریلی بعدازاں شہید فدا چوک پرجلسے کی شکل اختیار کرگیا جس میں مظاہرین نے تمام لاپتہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ کیا۔

احتجاجی مظاہرے میں انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان کے ریجنل کوارڈینیٹر پروفیسر غنی پرواز اور حق دو تحریک بلوچستان کے بانی سربراہ مولانا ہدایت الرحمن سمیت آل پارٹیز کیچ اور سول سوسائٹی کے رہنماؤں نے شرکت کی اور خطاب کیا جبکہ ریلی کا انعقاد سماجی شخصیت اور حق دو تحریک کے رہنما یعقوب جوسکی نے کیا تھا۔

لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے یعقوب جوسکی کی سربراہی میں مختلف علاقوں سے لواحقین نے آکر شرکت کی جس میں بڑی تعداد میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔

ریلی کا آغاز تربت پریس کلب سے کیا گیا جس کی قیادت لاپتہ افراد کے خواتین فیملی ممبران کے علاوہ ایچ آر سی پی کے پروفیسر غنی پرواز، یعقوب جوسکی، آل پارٹیز کیچ کے کنوینر سیدجان گچکی اور تربت سول سوسائٹی کے کنوینر گلزار دوست کررہے تھے۔

شرکا نے لاپتہ افراد کے تصاویر اور بینرز و پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر نعرے درج تھے۔

مظاہرین نے فدا شھید چوک پر پہنچ کر جلسہ کیا ۔ جہاں حق دو تحریک کے قائد مولانا ہدایت الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ نوجوانوں کی جبری گمشدگی ریاست کے حق میں اچھا فیصلہ نہیں ہے، اس سے نفرتوں میں اضافہ اور دوریاں پیدا ہوں گی جو لوگ یہ کام کررہے ہیں وہ اس ریاست کے ساتھ مخلص نہیں ہیں۔

انہوں نے کہاکہ نہتے بلوچ نوجوانوں کا اغوا، ان کا قتل اور تشدد قابل قبول نہیں ہے اگر یہ پالیسی ترک کرکے ہمیں عزت سے جینے نہیں دیا گیا تو پھر ہم سے گلہ بھی کرنا جائز نہیں ہے۔

ریلی سے ایچ آر سی پی کے ریجنل کوارڈی نیٹر پروفیسر غنی پرواز نے خطاب کیا اور کہاکہ ریاست کے اندر شہریوں کا اغوا اور تشدد و مسخ لاشوں کا پھینکنا نیک شگون نہیں اور نہ ہی آئین اور قانون میں اس بات کی گنجائش موجود ہے ۔جبری گمشدگی ریاست کے قوانین میں ایک جرم ہے لہذا اس سے گریز کرکے تمام جبری گمشدہ افراد فوری بازیاب یا عدالتوں میں پیش کیے جائیں اور ان پر قانونی طریقہ کار کے مطابق عمل کیا جائے۔

حق دو تحریک کے رہنما یعقوب جوسکی، آل پارٹیز کیچ کے کنوینر سید جان گچکی تربت سول سوسائٹی کے کنوینر گلزارِ دوست اور لاپتہ بالاچ اقبال، جہان زیب، صابر علی، ظریف بلوچ، عابد بلوچ، عدیل و دیگر کی بہنوں اور رشتہ داروں نے بھی خطاب کیا۔

انہوں نے کہاکہ اگر لاپتہ کیے گئے افراد میں سے کسی نے کوئی جرم کیا ہے تو انہیں ریاست کے وضع کردہ قوانین کے مطابق سزا دی جائے، کسی کو اغوا یا جبری لاپتہ کرنا انسانیت کے خلاف ایک جرم ہے عدالتوں کو چاہیے کہ وہ اس کے خلاف ایکشن لیں کیونکہ انصاف کے ادارے عدالتیں ہیں اگر عدالتیں جبری گمشدگی کو روکنے میں کردار ادا نہیں کرتے تو یہ اس ریاست کے ساتھ بدترین ظلم ہے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment