بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں بلوچ جبری لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے قائم بھوک ہڑتالی کیمپ کو 5066 دن ہوگئے ہیں ۔
آج اظہار یکجہتی کرنے والوں میں حق دو تحریک کے سربراہ اور جماعت اسلامی صوبائی جنرل سیکریٹری مولانا ہدایت الرحمان، ڈاکٹر عطاء الرحمن، نوید بلوچ کلمتی اور دیگر نے کیمپ آکر اظہار یکجہتی کی۔
مولانا ہدایت الرحمان نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے ماما قدیروہ واحد شخص ہیں جو پورے پاکستان میں سب سے زیادہ جدوجہد کرنے کا اعزاز رکھتے ہیں اور گذشتہ 15 سالوں سے وہ جبری گمشدگیوں کیخلاف کیمپ لگائے بیٹھے ہیں۔ جماعت اسلامی اور حق دو تحریک بلوچ لاپتہ کی بازیابی کیلئے ہمیشہ ماما قدیرکے ساتھ رہے گی ۔اگر وہقوتیں سمجھتے ہیں کہ وہ لوگوں کو لاپتہ کرکے ریاست کو مضبوط کر رہے ہیں تو یہ ان کی غلط فہمی ہے ۔وہ قوتیں یہ بات جان لیں کہ وہ لوگوں کو لاپتہ کرکے دراصل ریاست کو کمزور کررہے ہیں۔
وی بی ایم پی کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے وفد سےکہا کہ پرامن جدجہد اّس عمل کو کہتے ہیں جو اجتماعی طور پر کسی معاشرے کی ترقی یا قوم کی بقاء اور خوشحالی کیلئے کیا جاتا ہے۔ وہ کسی تنظیم کی شکل یا کسی گروہ پر مشتمل افراد کی شکل میں کیا جائے اسے قومی پرامن جدجہد کہتے ہیں۔ اس قسم کی پرامن جدجہد اّس وقت کیا جاتا ہے جب کسی قوم پر دوسری قوم پر ریاست کا قبضہ یا حاکمیت ہوتو مقبوضہ ریاست کے محکوم باشندوں کے دلوں میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ ہم پر جبری قبضہ کیوں ہمیں غلام کیوں بنایا گیاہے۔ انسان آزاد پیدا ہوا ہے لیکن ہر جگہ زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے ۔پاکستان نے بلوچستان پر جبری قبضہ کیا ہوا ہے ۔ بلوچ قوم کے اس پرامن جدجہد میں ہزاروں بلوچ فرزندوں نے اپنی جانوں کی قربانیاں دی ہیں ۔اور ہزاروں کی تعداد میں اب بھی قابض ریاست کے ٹارچر سیلوں میں اذیتیں سہہ رہے ہیں ۔
ماما قدیر بلوچ نے مزید کہا کہ اج بلوچستان کے کونے کونے میں شہیدوں کی آواز گونج رہی ہے ۔چاہیے بولان کی وادیاں ہوں آواز ان کی صحرائیں پہاڑیاں ہوں۔سوراب کھڈ کوچہ کی گلیاں ہوں چلتن اور زرغون کی چوٹیاں ہوں پسنی اور گوادر کا ساحل سمندر ہو۔جہاں جہاں پے جاؤ تو شہیدوں کافکر اور مسکان نماچہرہ دکھائی دیتا ہے۔ اس لیے کہتے ہیں شہد مرتے ہیں ہمیشہ کےلئے آمر ہوتے ہیں ۔ بالکل اسی طرح ہو ہنستے مسکراتے چہرے جو جسمانی طور پر ہم بچھڑے گئے ہیں ۔ لیکن ان کی فکر اور حوصلہ اج بھی بلوچ قوم کے دل و دفاع میں زندہ ہیں ۔ ریاست نے ان نوجوانوں کوکئی مراعات پیش کیے لیکن باشعور نوجوانوں میں ان مراعات کو ٹھکرا کر اپنی قوم کی بقاء کی خاطر اپنی جانوں کا قربانیاں دے کر تاریخ رقم کردی ہے۔