شہید چیئرمین غلام محمد بلوچ

ایڈمن
ایڈمن
29 Min Read


قائد انقلاب شہید غلام محمد بلوچ کی سوانح عمری اور سیاسی بصیرت کا ایک طائرانہ جائزہ
(…..ایک قسط وار سلسلہ…..)
تحریر: محمد یوسف بلوچ پیش کردہ : زرمبش پبلی کیشن

”سوانح حیات قائدِ انقلاب شہید چیئر مین غلام محمد بلوچ “بلوچستان کے جہد آزادی کے عظیم رہنما شہید چیئر مین غلام محمد بلوچکی سوانح عمری، جدجہد،فکرو نظریات اورسیاسی بصیرت پر مبنی یہ ایک تاریخی و دستاویزی کتاب ہے جسے ان کے بھائی محمد یوسف بلوچ نے تحریر کیا ہے۔ یہ کتاب بلوچ جدو جہد آزادی کے کاروان میں شامل افراد کیلئے معلومات و دلسچپی کا ایک بہتر ذریعہ ہے ۔ ہم بلوچ قومی تحریک آزادی کے جہد کاروں سمیت بلوچ حلقوں کیلئے اس کتاب کو قسط وار شائع کرنے کا اہتمام کررہے ہیں تاکہ وہ شہید چیئرمین غلام محمد بلوچ کی سیاسی بصیرت، فکرو نظریہ اور تجربت سے استفادہ کرسکیں۔ یہ کتاب ہم ”زرمبش پبلی کیشن“کی شکریہ کے سا تھ شاع کر رہے ہیں۔(ادارہ سنگر)

(پہلی قسط)

غلام محمد کی
ہمہ گیر شہرت،
عام مقبولیت اور ہمہ جہد شخصیت پر ایک طاہرانہ نظر

ما و مجنوں ہمسفر بودم دربار عشق
او با منزل رسید ماتا ہوز آوار یم
جب ہم غلام محمد کی زندگی کا مطالعہ کرتے ہیں تو اس کی زندگی میں ہمیں ایک ہمہ جہد شخصیت کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ غلام محمد منطقی قوم پرستی پر یقین رکھتا تھا۔ وہ انتہا پسندانہ قوم پرستی کی بات کرتے تھے، اس کے باوجود وہ مارکسزم پر یقین رکھتے تھے۔ چونکہ ہمعصر ہونے کے ناطے اورایک جماعت سے وابستگی کی وجہ سے ہم ایک دوسرے کی ذہنی کیفیت کو اچھی طرح جانتے تھے اس لیے یہ بیان کرنا ضروری نہیں کہ وہ کس نہج پہ پہنچ چکا تھا یا کس راہ کا راہی تھا۔کردار، عمل اور اس کی کیفیت ہمہ وقت ہمیں یہ محسوس کراتا تھا کہ اس کاوژن اور پرواز ہم دیگر تنظیمی رفقاء اور دوستوں سے اعلیٰ و ارفع ہے۔ انہی خصوصیات نے انہیں دیگر تمام دوستوں میں منفرد مقام عطاکیا۔ وہ بلا کا مقرر تھا، فن تقریر کی وجہ سے ہمیشہ سامعین کی توجہ اپنی جانب مبذول کراتا تھا۔ان کے تقاریر

Articulate

ہوا کرتے تھے۔انہیں اردو زبان پر کمال کا عبور حاصل تھا اسی لیے بلوچستان کے طول و عرض میں جہاں کہیں بھی وہ تقریر کرتے اس کے الفاظ اپنا اثر چھوڑ جاتے۔بلوچی میں وہ شاعری کرتا تھا، مادری زبان ہونے کے ناطے ان کے جذبات، بیانات اور احساسات دلربائی روپ اختیارکر لیتے۔
غلام محمد کا کردار اسے آج اس نہج پہ پہنچا چکا ہے جسے دیکھ کر یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ وہ ترقی پسند قوم پرستی کا داعی تھا،اور آخری وقت تک ایک مستحکم اور مضبوط

Commetment

کے عامل شخصیت ٹہرے۔عملی جدوجہد پہ یقین رکھنے والا یہ عظیم انسان دلیل اور منطق پہ ایمان رکھتا تھا۔ وہ اپنے تقاریر میں کہتا کہ ہمیں دیگر دوستوں کی یوم شہادت محض منانا نہیں چاہیے بلکہ ہمیں ذہنی طور پہ شہادت کے لیے تیار ہونا چاہیے۔اور اس نے یہ مقدس مقصد

Noble Cause

کی خاطرکرکے دکھایا اور جام شہادت نوش کی اور زندگی بھر بلوچ سیاست پہ چھاگیا۔ باالفاظ دیگر وہ جسمانی طور پر بلوچ قوم سے جدا کیا گیا،لیکن اس کی جرات مندانہ شہادت نے ایک قربانی کلچر

Sacrifice culture

رقم کی۔اس کا کردار، عمل اور قربانی دیکھتے ہوئے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اس کے بغیر بلوچ قوم پرستی اور بلوچ تاریخ نامکمل ہے۔
قوم پرستی کے نشے میں سرچار ہوکر انہوں نے بشان فخر و ناز کو جنم دینے کی قطعاً کوشش نہیں کی۔بلکہ عمل کو آنے والی نسلوں کی نجات کا ذریعہ گردانتا تھا۔ وہ اپنے نظریات اور اصولوں پر ایک غیر متزلزل یقین رکھتا تھا اور آخر دم تک ان پر قائم رہا۔وہ مصلحت پسندی سے مبرا تھا اسی لیے اپنے نظریات اور اصولوں پہ کبھی سمجھوتہ نہیں کرتے، بلوچ قوم پرستی کو اپنا ایمان، اڑھنا بچھوناسمجھتا تھا اور یہ سوچ اور فکر زمانہ طالب علمی سے اس کے ساتھ تھا بلکہ اس کتاب میں یوسف بھائی نے غلام محمد کی زندگی سے متعلق بعض حقائق جو بیان کیے ہیں انہیں دیکھ یہ کہا جاسکتا ہے کہ قوم پرستی کا نظریہ دور طالب علمی سے قبل ان کے ذہن میں نقش ہوچکا تھا۔ ان کے اخلاص،، شوق خدمتِ بلوچ اور قومی احساسات اور قربانی کے متعلق کچھ لکھنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اس نے عملیت کا مظاہرہ کرکے یہ ثابت کردیا۔ یہ تحریر بھی اس کی شہادت و جذبہ قربانی کی وجہ سے وقوع پذیر ہوا، کی مرہون منت ہے۔ وہ قربانی کا پیکر تھا اور اس نے اپنا ذہن قربانی کے لیے تیار کیا ہوا تھا۔ اس کی کیفیت کا اظہار وہ وقتاً فوقتاً اپنے منطقی تقاریر اوور محفلوں میں بھی کیا کرتا تھا۔


غلام محمد کی شخصیت اور افکار کا احاطہ کرنا مشکل کام ہے یا یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اس کی شخصیت پہ مطالعاتی تحقیق نہ کی جائے۔بہرحال اس کا ہمسفر رہنے کی وجہ سے اس کی بابت کسی حد تک جانکاری ضرور حاصل ہے۔ وہ ہر وقت اس بابت زور دیا کرتا تھاکہ قومی بقاء کی جدوجہد میں واضح عمل کا تعین کرنا انتہائی ضروری ہے۔ اسی لیے بلوچستان نیشنل موومنٹ کے سابقہ دوستوں سے اس کے اختلافات جنم لیے۔اور اس نے اپنی راہ الگ کردیا۔ دیگر دوستوں کی نسبت وہ ایک امید پرست اور رجائی انسان تھے،وہ بہادر لیڈر تھا جو مشکل راستے پر پہلے خود چل کر دکھاتا۔جیسے اس کی شہادت کا واقعہ اور یہ کہنا بھی بے جا نہ ہوگا کہ اس کی شہادت ایک عظیم تغیر ہے۔بلوچستان کی آزادی اس کا نصب العین تھا۔ انہوں نے نہ صرف پارلیمانی سیاست میں حصہ لینے سے قعطی طور پر معذرت کیا تھا بلکہ اس کا سخت مخالف بھی تھا۔وہ اس مخالفت کو دلیل اور منطق سے ثابت بھی کرتا تھا۔عصر حاضر میں جتنے نام نہاد قوم پرست رہتے ہیں وہ اچھی طرح واقف اور سمجھ چکے ہیں کہ پاکستان میں پارلیمان اور جمہوریت کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ پاکستان ایک عسکری ریاست ہے، جہاں جمہوریت اورپارلیمان فوج کے ماتحت ہیں وغیرہ وغیرہ۔جو غلام محمد کے موقف کی صداقت کو ظاہر کرتی ہے۔بلوچوں کے علاوہ مہاجر، پشتون اور سندھی بھی آج اس نہج تک پہنچ چکے ہیں کہ پاکستان میں دستوری اور پارلیمانی سیاست کی کوئی وقعت نہیں۔ماسوائے پاکستان سے جان خلاصی کے دیگر راستے مسدود ہوچکے ہیں۔جو کہ غلام محمد کے افکار، دلیل اور منطقی انداز فکر

Approach

کا غماز ی کرتا ہے۔


چونکہ انہوں نے اس پر آشوب دور میں اپنی سیاسی سرگرمیاں زور و شور سے جاری رکھا ہواتھا، اس لیے اس کی شاعری میں اس کی ذہنی کیفیت کی جھلک ہمیں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ ظاہر ہے کہ وہ ایک انقلابی رہنماء تھے، اس کی شاعری بھی انقلابی ہی تھی۔ اس لیے اس کی شاعری بھی منفرد مقام کا حامل ہے۔انہوں نے اپنے انقلابی جذبوں کو شاعری کی زبان دینے کے ساتھ ان جذبوں کو عملی شکل بھی دی تھی۔ وہ ایک انقلابی کارکن اور رہنماء ہونے کے ساتھ انقلابی شاعر بھی تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی آزادی کے لیے وقف کردی تھی اور اس راہ پہ چل کروہ شہادت کی معراج تک جا پہنچے۔
وہ اپنے افکار اور نظریات بڑی مہارت سے بلوچ عوام کو ذہن نشین کراتے۔اور اپنی غزلوں اور نغموں کی بدولت عام بلوچ قوم کو مسرور کرتا۔ یہ کہنا بے جانہ ہوگا کہ وطن پرستی اور قوم پرستی میں اس کا کلیدی کردار رہا ہے۔ وہ ایک فکری اور نظریاتی شخصیت تھا۔ تنظیم سازی میں بلا کی مہارت اور تجربہ رکھتا تھا۔ بقول یوسف بھائی ”وہ طالب علمی سے لیکر تا دم شہادت تنظیم اور پارٹی کے اہم عہدوں پہ فائز رہے۔“
ان کی شاعری کی بنیادہی مزاحمت،اضطراب و احتجاج کو پار کرکے انقلابی شاعری

Threshnord

پر پہنچ چکا تھا۔اگر سیاسی میدان میں ان ذہنی کیفیات کی سطح کو ماپنے کی کو شش کی جائے تو نیلسن منڈیلا کی عدالت میں بیان سے ملتا جلتا ہے

I am prepherd to die

۔غلا م محمد چونکہ ایک قوم پرست تھااور اس کے تمام تر ادبی تخلیق یا شاعری قربانی، مزاحمتی اور انقلابی تھا۔بد قسمتی سے میں بلوچی پڑھ اور لکھ نہیں سکتا لیکن میں بلوچ شعراء کی نظم اور غزلوں کو بسیار سے سنتا ہوں۔محمد عارف بلوچ سے میں غلام محمد کی شاعری ہالو و قندیل کو اکثر سنتا ہوں جو کہ غلام محمد کی ذہنی کیفیت اور قربانی دینے پر ہمہ وقت کمر بستہ ہونے کی غمازی کرتا ہے جیسا کہ نیلسن منڈیلا عدالت کے سامنے جرات کرتے ہوئے کہتا ہے۔ چونکہ آزادی اس کے لیے ایک Ideal ہے یا تھا۔اس لیے اسے موت سے کوئی ڈر نہیں تھا۔ اسی طرح غلام محمد کی متذکرہ نظمیں اس کی ذہنی کیفیت اور انقلابی ہونے کی غمازی کرتا ہے۔میں بذات خود ہی اس کا انقلابی پن اپنی آنکھوں سے اس وقت دیکھ چکا ہوں جب بندوق بردار

اسے اٹھا کے لے جاتے ہیں۔
اس سلسلے میں ایک مفکر رقمطراز ہے کہ

(Sweet and right it is to die for your country) and ”happy those who with a glowing faith in one embrace clasped death and victory”
John F. Kennedy’s Less gruesome ”ask not what your country can do for you, ask what can you do for your country.”
غلام محمد نے یہ تنازعہ حل کردیا اور خود کو وطن کے لیے قربان کردیا۔جو کسی عام انسان کے بس کی بات نہیں۔موقعہ محل دیکھ کریہاں برناڈ شاہ کے اس جملے کا حوالہ دینا مناسب سمجھتا ہوں۔وہ کہتے ہیں کہ ’’دنیا دو قسم کے لوگوں سے آباد ہے۔وہ عقل مند جو خود کو دنیا کے سانچے میں ڈال لیتے ہیں، مثلاً (ڈاکٹر مالک وغیرہ) اور وہ بے وقوف (غلام محمد)جو دنیا کو اپنے سانچے میں ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔لہٰذا بے وقوفوں کی ہی بدولت تاریخ اور تہذیب ارتقاپاتے ہیں۔“


انہوں نے اپنے لیے جس راستے کا سوچ سمجھ کر انتخاب کیا تھا وہ اس راہ پہ اپنی زندگی کی آخری سانسوں تک گامزن تھا۔انہوں نے اپنے عہد کے ان خوفناک سچائیوں کا بھر پور ادراک کیا تھا۔ جہاں خون آشام بلاؤں کی طرح خطرات ان کے چاروں اطراف منڈلارہے تھے۔لیکن وہ ان خطرات کو کبھی خاطر میں نہیں لاتے۔ میں خود اس کی بہادری اور استقامت کا گواہ ہوں۔ جس وقت پاکستان کے خفیہ اداروں کے اہلکار میرے دفتر سے اس کو اور اس کے دوستوں کو جس بے رحمی سے اٹھا یااور اس نے جس بہادری کا مظاہرہ کیا وہ ناگفتہ بہ ہے۔ ۳ اپریل ۹۰۰۲ء میرے لیے ایک منحوس دن تھا۔ جب انسداد دہشت گردی کی عدالت سے فارغ ہوکر، میرے دفتر میں پہلے میں اور شیر محمد پہنچے کہ ایک شخص دفتر میں داخل ہوااور بیٹھ گیا اور کہا کہ اس نے اپنے جوتے باہر موچی کو پالش کرنے کو دیا ہے۔ میں نے کہا بیٹھ سکتے ہو۔میرے جونیئر وکیل ناصر علی نے کہا کہ اس کا تعلق سیکورٹی فورسز سے ہے۔تب میں نے اور شیر محمد نے اپنی گفتگو بند کردی۔تھوڑی دیر بعد غلام محمد، لالا منیر اور حسن حسرت ایڈوکیٹ بھی دفتر آگئے۔ ان کے آتے ہی تقریباً دس بارہ بندوق بردار افراد دفتر میں داخل ہوتے ہی توڑ، پھوڑ شروع کیا اور ہمارے سر پر بندوقیں رکھ کر غلام محمد، لالا منیر، شیر محمد اور حسن حسرت کو دفتر سے لے گئے۔


حسن حسرت اور لالا منیر کو انہوں نے واپس چھوڑ دیا، دونوں واپس دفتر آئے لیکن بعد میں فورسز واپس آکر لالا منیر کو اپنی تحویل میں لے گئے۔


میں انتہائی پریشانی کی حالت میں تربت بار کے صدر فدا حسین کوو اپنے دفتر بلوایا اور تمام مہاجرہ اس کو سنادیا۔فدا حسین جو کہ آج کل قاضی کے عہدے پہ فائز ہے۔ دیگر وکلاء کے ساتھ عدالت انسداد دہشت گردی چلے گئے۔اور یہ سفاکی جو خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے میرے موکلوں کے ساتھ کیا تھا، کی روئدداد جج صاحب کو سنایا۔ اس نے کہا کہ اس سلسلے میں ایک درخواست دائر کی جائے۔ ہم نے ایک درخواست تحریر کرکے عدالت انسداد دہشت گردی میں اسی ووقت دائر کردیا۔
انسداد دہشت گردی کی عدالت میں درخواست دائر کرنے کے بعدتربت کے زیادہ تر وکلاء میرے میرے ساتھ تربت پولیس تھانہ میں رپورٹ درج کرنے کے لیے گئے۔ لیکن وہاں کوئی ذمہ دار افسر موجود نہیں تھا۔ کافی دیر بعد تھانیدار آیا اور اس نے کہا کہ وہ سپریٹنڈنٹ پولیس)ایس پی(کی اجازت کے بغیر ایف آئی آر درج نہیں کرے گا۔یہ عذر کرکے کہ ایس پی اس وقت اپنے سیٹ پہ موجود نہیں ہے۔


دوسرے دن ہم نے ایک درخواست عدالت سیشن جج دفعہ ۱۹۴ ضابطہ فوجداری کے تحت دائر کردیا تھا۔کہ پولیس ایف آئی آر درج نہیں کررہاہے۔پولیس کو حکم دیا جائے کہ ایف آئی آر ددرج کرے۔ چونکہ متذکرہ دفعہ کے تحت عدالت کو اختیار حاصل ہے کہ جب پولیس ایف آئی آر درج کرنے میں پس و پیش سے کام لے تو عدالت پولیس کو حکم دے سکتا ہے کہ وہ ایف آئی آر درج کرے۔ لیکن عدالت نے خوف کے عالم میں درخواست کو بغیر کسی قانونی جواز مسترد کردیا، کہ اس کو اختیارات حاصل نہیں ہیں۔ وہ عدالت عالیہ ہائی کورٹ بلوچستان سے رجوع کریں۔


مجھے کوئٹہ جانا پڑا؎۔ بلوچستان بار کے دوستوں یعنی وکلاء سے اس سلسلے میں تبصرہ کیا۔ انہوں نے مدد کرنے کی حامی بھر لی اور چیف جسٹس بلوچستان (موجودہ گورنر بلوچستان) امان اللہ یاسین زئی سے ملاقات کاوقت بھی لیا۔لیکن حالات کا رخ کچھ ایسا بدلا کہ ہم یاسین زئی سے ملاقات بھی نہ کرسکے۔ ہوا یوں کہ شام ۸ اپریل ۹۰۰۲ء مجھے ایک ڈاکٹر دوست نے فون کیا کہ غلام محمد اور اس کے ساتھیوں یعنی لالا منیر اور شیر محمد کی لاشیں ملی ہیں۔یہ خبر سننے کے بعد میں بیان کرنے سے قاصر ہوں کہ مجھ پہ کیا بیت رہی تھی۔ اور ۹ اپریل کو بلآخر ریاست کا یہ گھناؤنا کھیل ظاہری صورت میں سامنے آچکا تھااور غلام محمد اور اس کے ساتھیوں لالا منیر اور شیر محمد کو جسمانی طور پہ ہم سے جدا کردیا۔


اس واقعے کے دو،تین دن تک میری ذہنی کیفیت ایسی تھی کہ اسے میں بیان نہیں کرسکتا پھربھی ان حالات میں میں نے اس ریاستی راز کو افشاں کرنے کے لیے پریس کانفرنس کیا اور ساتھ میں بی بی سی اردو کو انٹرویو بھی دیا جس میں وہ تمام حقائق جو میری شنید میں تھے میں انہیں دنیا کے سامنے ظاہر کیا۔عالمی میڈیا میں اس واقعے کے اجاگر ہونے کے بعد تربت پولیس نے اس واقعے کی ایف آئی درج کی۔
الغرض اس حوالے سے میں نے اپنی بساط کے مطابق کوشش کی لیکن آج یوسف بھائی کی یہ کوشش (کتاب)دیکھ کر میں

یہ کہنا چاہونگا کہ انہوں ایک ایسا تاریخی کارنامہ سر انجام دیا ہے جو آگے چل کر نہ صرف غلام محمد پہ بلکہ بلوچ قومی تحریک پہ مزید تحقیق کی راہ ہموار کریگی۔
غلام محمد بلوچ اور اس کے ساتھیوں کو خراج عقید پیش کرتے ہوئے میں ان الفاظ کے ساتھ اپنی یہ تحریر ختم کرنا چاہونگا کہ غلا محمدتو نے اپنی قربانی سے قندیل کو ایسی روشنی بخشی جس سے آنے نسلوں کو راہوں کا تعین کرنے میں کبھی دشواری پیش نہیں آئیگی اور یہی عظمت کی نشانی ہے جو منفرد مقام عطا کرتی ہو۔
………………….

حرفِ اول
ازمحمد یوسف بلوچ

ٍ جب ہم دنیا کی تاریخ اٹھا کے دیکھتے ہیں تو ہمیں دنیا کے مختلف خطوں میں بسنے والے اقوام میں ایسے کردار نظر آئینگے جنہوں نے اپنے انقلابی روش کی بنیاد اور عمل سے خود مورخ بن کے تاریخ رقم کیں۔وہ چاہے رومن تاجداروں کے خلاف سپارٹکس کا کردار ہو، یاانگریزوں کے خلاف بلوچ وطن کی جنگ آزادی میں نورا مینگل۔ غرض تاریخ کے صفحات ایسے عظیم ہستیوں کے داستانوں سے بھری پڑی ہیں۔جنہوں نے اپنے کردار اورعمل سے وقت کی کھایا پلٹ دی۔
ایسے شخصیات کا ظہور دنیا میں کبھی ہوچی من، کبھی چی گویرا، کبھی کارل مارکس، کبھی بھگت تو کبھی شہید بالاچ کی

صورت میں ہوتا ہے۔جواپنے انقلابی کردار کی بدولت دنیا کے دائم رہنے تک اپنے،فکر اور نظریے کوقائم رکھتے ہیں۔ جو کبھی عام قصے کہانیوں کی صورت میں سماج میں گردش کرتے ہیں، تو کبھی کتابوں میں موتیاں بن کے چمکتے ہیں۔جنہیں سن کے،جنہیں پڑھ کے لوگ انہی کی طرح بننے کی کوشش میں انہی پگڈنڈیوں پہ محو سفر ہوتے ہیں جن پہ ایسے ہی عظیم ہستیوں کے پھیروں کے نقوش ہوں۔یہ سلسلہ ازل سے اسی ڈک پہ چل رہاہے اور تا ابد یوں ہی چلتا رہیگا جن سے داستانوں،افسانوں اور قصے کہانیوں کی خوبصورتی میں نکھار آتا جائیگا، تاریخ رقم ہوتی جائے گی، ایسی ہستیاں کتابوں میں موتیوں کا روپ دھارتے رہینگے، اور یوں حال ماضی کو دھراتا رہیگا۔
اپنی کم مائیگی اور کم علمی کے باوجود آج میں دنیا کے انہی مدبر شخصیات کے ہمنواؤں میں شامل ایک عظیم ہستی کے

بارے میں کچھ لکھنے کی جسارت کررہاہوں،جس کا کردار بلوچ تاریخ میں ایک درخشاں باب کی حیثیت رکھتا ہے،بلوچ تحریکِ آزادی کا ایک عظیم کردارجو آج داستانِ فخر بن چکا ہے، ایک ایسا کردارجس نے بلوچ تحریک آزادی کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا جس کی مثال بلوچ تاریخ میں نہیں ملتی،ایک ایسا کردارجسے سننے، کہنے اور لکھنے والے سبھی اس بات پہ نازاں ہوتے ہیں کہ ہم نے انہی سے اور انہی کے بابت کچھ سیکھا،اور اس بات پہ وہ یہ فخر محسوس کرتے ہیں کہ اس کے یہ آدرش دنیا تک پہنچایا، اس سے یہ سکون بھی میسر ہوتا ہے کہ ایسے عظیم ہستیوں کے بارے میں لوگ سیکھ کر اپنی راہوں کا بہتر انتخاب کرسکتے ہیں۔ایسے کرداروں کے بارے میں جانکاری دینے سے عظیم ہستیوں کے اس مشن کو جاری رکھا جاسکتا ہے جہاں ان عظیم ہستیوں کی زندگی کا مقصد تھا کہ دنیا کے محکوم اور مظلوم انسان اپنے حقوق کی جدوجہد کریں اور اس وقت تک وہ خاموش نہ بیٹھے جب تک وہ اپنے مقاصد حاصل نہیں کرپاتے۔
تاریخ بلوچ کو سنہرے حروف مہیاء کرنے والا یہ عظیم ہستی نہ صرف بلوچ نیشنل موومنٹ کا بانی بلکہ بلوچ

جدوجہد کو تحریکی زاویے میں ڈھانے والا بلوچ تاریخ کا عظیم کردار شہید غلام محمد بلوچ ہے۔جنہوں نے بلوچ قوم کو آزادی کی راہ میں کامیابی کے لیے ایک نظریہ دیا، جس نے بلوچ قومی تحریک میں پہلی مرتبہ ادارہ جاتی طریقہ کار کو بروئے کار لایا، جنہوں نے پہلی مرتبہ مقصد کے حصول کے لیے ہر کوچہ و گدان تک بلوچ جہدِ آزادی کے پیغام کو پہنچانے کا وسیلہ(جماعت) عطاء کیا۔جس پہ عمل پھیرا ہوکے بلوچ قوم آج کامیابی سے منزل کی جانب رواں ہے۔


لکھنے والے کا موضوع اگر ایسی ہستی ہو تو یقیناً اس کے لیے الفاظ کو موتیوں کی لڑی میں پرونا ایک مشکل امر بن جاتا ہے کیونکہ راقم کے کے پاس الفاظ کا وہ ذخیرہ ختم ہوجاتا ہے جو ایک عظیم ہستی کے شایانِ شان ہو۔بے بسی کے اس عالم میں جس میں میرے پاس قلم کی ایسی طاقت نہیں کہ میں الفاظ کو ایک عظیم انقلابی لیڈر کی ترجمانی کے لیے موتیوں کی شکل دے سکوں۔ اس کسمپرسی اور لاچاری کی حالت کے باوجود میرے لیے یہ باعثِ فخر ہے کہ میں اس عظیم ہستی کا بھائی ہوں جو عمر میں مجھ سے چھوٹا لیکن علمی اور عملی قد میں مجھ سے ہزار گناہ بڑا تھا اور اس سے بھی بڑھ کر یہ بات میرے لیے باعث فخر ہے کہ شہید غلام محمد بلوچ میرا قائد تھا۔ اپنے اندر تمام کمزوریوں کے ادراک کا احساس کرتے ہوئے بھی آج قلم اٹھا کے شہید غلام محمدبلوچ کی زندگی پہ روشنی ڈالنے کی کوشش کرونگا جس کا میں ولادت سے شہادت تک ہمسفر، ہم خیال اور ہم قدم رہا۔
وہ شہید غلام محمد جس کے نام شہید حمیدبلوچ جیل سے خطوط ارسال کرتا تھا(جن کی اصل کاپیاں کتاب میں شائع کیے جائیں گے) وہ غلام محمد جس پہ عین نوجوانی میں کامریڈ شیروف مری بھروسہ کرتا تھا، ایک ایسی ہستی جس پہ آج نہ صرف بلوچ قوم بلکہ ہر محکوم اور مظلوم نازاں ہے،ایک ایسی ہستی جس نے بلوچوں کی جد وجہد کو تاریخ کے ایک ایسے موڑ پہ لایا جہاں بلوچ پر امید آنکھوں سے اپنی آزادی کی کرن دیکھ سکتے ہیں۔
شہید غلام محمدبلوچ جو پچپن سے لیکر اپنی شہادت تک زندگی کے ہر موڑ پہ قومی غلامی کی زنجیروں کو توڑنے کی جستجو میں سر گرمِ عمل رہا۔ایسے عالم میں جہاں ایک عظیم ہستی جن کی قربت نے مجھے ان کے بارے میں جانکاری بخش دیا، جہاں میں نے دیکھا، محسوس کیا اور یہ جان لیا کہ ایک عام سا انسان ایک عظیم مرتبے پہ کیسے براجماں ہوتا ہے۔اسی بابت ایک بار پھر یہ واضح کرتا چلوں کہ میرے پاس الفاظ کا ذخیرہ نہ ہونے کی وجہ سے شاید میرا قلم میرے احساسات کی ترجمانی کرنے سے قاصر رہے۔کیونکہ الفاظ کے وہ موتی جو کسی انقلابی رہنماء کے کردار کو واضح انداز میں بیان کرنے کے لیے ضرووری ہوتے ہیں میرے پاس ان کی فراوانی نہیں۔اور یہ عمل اس وقت کسی لکھنے والے یا بیان کرنے والے کے لیے اور زیادہ مشکل صورت اختیار کرتے ہیں جہاں مہر و محبت کے رشتے زیادہ مضبوط ہوں،مہر و وفاء کا عکس بھی ایسا جس میں رشتہ کسی عظیم مقصد کے لیے ہو، جہاں سوچ، خیال، فکر سب قوم اور وطن کے لیے۔
لہٰذا میں قارین سے التماس کرتا ہوں کہ میری غلطیوں کو میری کم علمی سمجھ کر درگزر کردیں کیونکہ میں ایک ایسی ہستی کے بارے میں لکھ رہاہوں جس کے فکر اور نظریے کو بیان کرنا مجھ جیسے کم علم انسان کے بس کی بات نہیں لیکن پھر بھی قومی فرض سمجھ کر اسے نبھانے کی کوشش کررہا ہوں۔ایک اور مقصد جس نے مجھے شہید غلام محمد بلوچ پہ لکھنے کا حوصلہ عطاء کیا،وہ ہے حال اورمستقبل کے معماروں کے لیے شہید غلام محمد بلوچ اور بلوچ قومی تحریک میں ادارہ جاتی طریقہ کار کی تاریخ کے بابت تحقیق کے در کھولنا۔
میرا یہ تحریر جاری تھا کہ ۲ مئی ۸۱۰۲ء کو میرا جوانسال بیٹا شہید عاطف بلوچ میدان عمل میں دشمن کا مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہوگئے۔یہ یقیناً میری خوش نصیبی ہے کہ بلوچ وطن پہ میرے دو بیٹے قربان ہوچکے ہیں اور یہ شہید عاطف کا بھی نصیب کہ وہ اپنی منزل پانے میں کامیاب ہوگیا۔ان کی یہ بات جو وہ اکثر مجھ سے اور اپنی ماں سے کہاکرتا تھا کہ ”میں دیکھ رہاہوں کہ میرے نصیب میں وطن پہ نثار ہونا لکھا ہے لہذا میری شہادت پہ کبھی آنسو مت بہانا بلکہ خود میں اتنا حوصلہ پیدا کرنا کہ آنے والی نسلیں آپ لوگوں کی تقلید کرنے پہ فخر محسوس کریں“ اور جب عاطف جان کی شہادت کی خبر آئی تو میرے منہ سے بے اختیار یہ الفاظ نکلیں کہ جو تو نے محسوس کیا وہ آج حقیقت کا روپ دھار چکا ہے، عاطف مجھے فخر ہے کہ تو نقش غلام محمد پہ چلتا رہا جہاں تم آخر وقت تک اپنے مادر وطن کی خدمت پہ مامور رہے یہی انقلابیوں کا وطیرہ ہوتاہے جہاں وہ اپنے قائدین کے قدموں کے نشان کبھی مٹنے نہیں دیتے۔

(جاری ہے)

Share This Article
Leave a Comment