بلوچستان کے ساحلی شہر اور سی پیک مرکز گوادرمیں حق دو تحریک کی جانب سے بحرہ بلوچ میں غیر قانونی فشنگ کے خاتمے کیلئے گوادر پورٹ کے سامنے دھرنا دوسرے دن بھی جاری رہا۔
دھرنا شرکا نے پتھر رکھ کر روڈ ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بلاک کر دیئے۔جس سے پورٹ کا کام معطل ہے اور کاروباری مراکز بند ہیں جبکہ دیگر اہم سرکاری مقامات پر نقل و حرکت مکمل طورپر بند ہوکر رہ گئی ہے۔
پاکستانی سیکورٹی فورسز کی جانب سے دھرنا ختم کرنے کیلئے دھرنا مظاہرین میں شامل خواتین و بچوں کیساتھ بد سلوکی اور ان پر تشددکی گئی جس سے حالات کشیدہ ہوگئے۔
دھرنامظاہرین نے گوادر کے عوام سے اپیل کی کہ وہ دھرنے میں شامل ہوجائیں جس سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ شامل ہورہے ہیں۔
تاہم اب تک کوئی بھی سرکاری حکام دھرنے میں بیٹھے ہوئے حق دو تحریک سے مذاکرات کے لئے نہیں پہنچا ہے۔
دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے حق دو تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمن بلوچ اور حسین واڈیلہ سمیت دیگر کا کہنا تھا کہ ساحل کے تحفظ کے لئے یہ دھرنا ناگزیر ہے کیونکہ جب ٹرالر مافیا غلط کام کے لئے کراچی پورٹ بند کرسکتا ہے تو ہمیں بھی یہ حق حاصل ہے ہم اپنے آبائی روزگار کے تحفظ کیلئے گوادر پورٹ بندنے کرنے کا انتہائی قدم اٹھائیں۔
انہوں نے کہا کہ غیرقانونی ٹرالرنگ کے خاتمے اور بارڈر امور کے حوالے سے ہماری تشفی نہیں کی گئی۔صوبائی حکومت غیر قانونی ٹرالرنگ کے خاتمے کیلئے زبانی جمع خرچ کررہی ہے ساحل بلوچستان اب تک ٹرالرمافیا کے لئے جنت بنا ہواہے اور بارڈر پر تجارت کے لئے آزادانہ ماحول فراہم نہیں کیا جارہا۔
انہوں نے گزشتہ روز ایک سرکاری اجلاس میں ایک سیاسی جماعت کے مرکزی رہنما کی طرف سے دھرنا کے شرکا کو مبینہ طورپر غیر مقامی قرار دینے کے موقف پر ان کو سخت تنقید کا بھی نشانہ بنایا۔
ذرائع بتاتے ہیں کی دھرنے کی وجہ سے پورٹ انتظامیہ سمیت سیکورٹی اداروں کو سخت دشواری کا سامنا ہے جس کیلئے وہ کسی بھی وقت طاقت کا استعمال کرسکتے ہیں۔