بلوچستان کے علاقے نوشکیمیں دو فروری کو رات گئے پاکستانی فورسز ایف سی ہیڈ کوارٹر پر مسلح بلوچ آزادی پسسندوں کے حملے کے بعد شہرمیں تیسرے روز بھی موبائل نیٹ ورکس اور انٹر نیٹ سسٹم بند ہے۔
مذکورہ حملے کی ذمہ داری بعد ازاں بی ایل اے نے قبول کی تھی جس میں مجید بریگیڈ کے 9 فدائین نے حصہ تھا۔
علاقائی ذرائع کے مطابق موبائل نیٹ ورک اور انٹرنیٹ سروس بند رہنے کی وجہ سے صحافیوں، عوام، تاجر برادری اور موبائل صارفین کو سخت مشکلات اور دشواریوں کا سامنا ہے۔
نوشکی کا تیسرے روز بھی دنیا سے رابطہ منقطع رہاجبکہ دوسری جانب سے سیکورٹی فورسز کا مختلف مقامات پر چیکنگ کا سلسلہ جاری ہے۔
واضع رہے کہ بلوچستان سمیت پاکستان بھر جب بھی فورسزپر اٹیک ہوتوموبائل نیٹ ورک اور انٹرنیٹ سروسز کوبندکردیاجاتا ہے تاکہ اصل حقائق تک عوام اور دنیا کو رسائی حاصل نہ ہوسکے۔