بلوچ جبری لاپتہ افراد و شہدا کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 4580 دن مکمل

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچ جبری لاپتہ افراد اور شہدا کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 4580 دن ہو گئے۔

متحد عرب امارات سے گزشتہ دنوں جبری لاپتہ عبدالحفیظ بلوچ کی فیملی بدستور کیمپ میں بیٹھے رہے۔

آج اظہار یکجہتی کرنے والوں میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کراچی کے آرگنائزر بانک آمنہ بلوچ ڈپٹی کنویز عبدالوہاب بلوچ زاہد بارکزئی اور دیگر لوگوں نے کیمپ آکر اظہار یکجہتی کی۔

وی بی ایم کے رہنما ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں بلوچ طلبا نوجوانوں سیاسی کارکنوں حقیقت پسند صحافیوں اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد کی فورسز خفیہ اداروں کے ہاتھوں جبری طور پر اغوا نماگر فتاریوں جبری گمشدگیوں ان پر سفاکانہ جبر تشدداور شیدکر کے ان مسخ شدہ لاشوں کو پھینکنے جیسے بلوچ نسل کش جنگی جرائم جس قدر بڑھ رہے ہیں اتنا ہی اقوام متحدہ سمیت حق انصاف کے داعی بین الاقوامی قوتوں کی یہاں جنم لینے والے انسانی المیوں پر خاموشی اور بے حسی طویل ہورہی ہے یہ بے حسی صرف پاکستانی سیاست اور أس کی محافظوں اور سیاسی دیگر حلقوں میں ہی پائی جاتی بلکہ اقوام متحدہ جیسا وہ ادارہ بھی جس کی اساسی دستاویز نکات میں انسانی حقوق کی پا پاسداری ولین ترجیحات قرار پائی تھیں۔بلوچستان پرآبادیاتی قبضے اور بلوچ نسل کشن ریاستی پالیسیوں سے مسلسل نظریں چرا رہاہے اس کردار سے ایسا لگتا ہے کہ اقوام متحدہ نے حکمران نو آبادیاتی ریاستوں کے مفادات کے تفظ کی ایسی عینک لگارکھی ہے جس میں اسے استعماری جبرتشدداور انسانی حقوق کی سنگین ترین خلاف ورزیوں کے شکار وہ متناز عہ خطے نہیں آتے ہیں حالانکہ بلوچستان جنگی کیفیت کا شکارہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ اور عالمی طاقتیں جمہوریت کی بالادستی اور انسانی حقوق کی پاسداری کے نام پر انتہائی سرگرم ہیں بلوچ قوم درپیش نسل کشی جیسے جنگی جرائم دو ہرامعیار اختیار کیا جا رہا ہے لاپتہ بلوچوں کی مسخ شدہ لاشوں کی صورت میں بازیابی یابرآمدگی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف اور اپنے پیاروں بحفاظت بازیابی کے لیے متاثرہ لواحقین بوڑھے بچوں اور خواتین سمیت پرامن احتجاج ریلیاں مظاہرے کرتے آرہے ہیں۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment