دنیا بھر میں 5 کروڑ انسانوں کی زندگیاں شہری تنازعات سے متاثر ہیں،اقوام متحدہ

ایڈمن
ایڈمن
6 Min Read

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انٹونیو گوٹیریش کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں 50 ملین انسانوں کی زندگیاں شہری علاقوں کے تنازعات سے بہت زیادہ متاثر ہو رہی ہیں۔ عام لوگ جسمانی معذوریوں اور گہرے ذہنی صدموں کا شکار ہو رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل نے منگل کو شہری علاقوں میں شہریوں کے تحفظ کے بارے میں ہونے والے سلامتی کونسل کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شہری تنازعات کے ضمن میں افغانستان، لیبیا، شام اور یمن جیسے ممالک کی مثال دی۔ ان کا کہنا تھا کہ تنازعات میں گھرے علاقوں کے عوام زخمی یا ہلاک ہونے کے خطرات سے دو چار رہتے ہیں اور بسا اوقات عام شہریوں کو جنگجو سمجھ کر ان پر حملے کیے جاتے ہیں۔

دیگر کیسز میں انتہا پسند جنگجو دھماکہ خیز مواد استعمال کرتے وقت بالکل یہ کوشش نہیں کرتے کہ اس سے کم سے کم نقصان پہنچے بلکہ ان کے حملوں کا ہدف پُر ہجوم علاقے ہوتے ہیں اور ان مقامات پر حملے کینتیجے میں شہریوں کو ایک طویل عرصے کے لیے معذوری یا پھر ہلاکت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

یہ حالات عام شہریوں کی ذہنی صحت کے لیے بہت مُضر ہیں اور اس کے سبب تنازعات کے شکار علاقوں کے شہریوں میں گہرے صدمات اور نفسیاتی مسائل پائے جاتے ہیں۔

انٹونیو گوٹیریش نے شہری علاقوں میں جاری جنگوں کا ذکر کرتے ہوئے گذشتہ برس غزہ پٹی میں ہونے والی جھڑپوں کی مثال دی جس میں درجنوں اسکولوں اور صحت کی دیکھ بھال کی سہولیات فراہم کرنے والے اداروں کو شدید نقصان پہنچا اور قریب 8 لاکھ افراد کے لیے پانی کی فراہمی کا سلسلہ منقطع ہو گیا۔

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل نے دوسری بڑی مثال ہندو کش کی ریاست افغانستان کی دی جہاں گذشتہ سال مئی میں دارالحکومت کابل کے ایک ہائی اسکول کے باہر ہونے والے دھماکے میں 90 طالب علم ہلاک اور قریب 240 دیگر افراد زخمی ہوئے تھے۔ ہلاک ہونے والے طالب علموں میں زیادہ تر لڑکیاں شامل تھیں۔

گوٹیریش نے کہا کہ اس قسم کی دہشت گردیوں اور حملوں سے عام شہریوں کو نقصان پہنچنے کے خطرات میں اُس وقت اور زیادہ اضافہ ہو جاتا ہے جب جنگجو شہریوں کے اندر گھس کر شہری تنصیبات کے نزدیک عسکری ساز و سامان اور سہولیات نصب کر دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہری علاقوں کے تنازعات سے پیدا ہونے والے خطرات کا دائرہ کہیں زیادہ وسیع ہے۔

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کا مزید کہنا تھا کہ تنازعات کے سبب عام شہریوں کے لیے مزید مشکلات کھڑی ہوگئی ہیں، جیسے کہ محاصروں اور ناکہ بندیوں کے خطرات۔ ان سے شہریوں کے لیے فاقہ کشی تک کی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ اس کے شکار کروڑوں انسان اپنے گھر بار چھوڑنے اور مہاجرت اختیار کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

گوٹیریش کے بقول، ”ایسے شہری اندرون ملک بے گھر ہو کر نقل مکانی کرنے والوں اور تارکین وطن کی ریکارڈ تعداد کا ایک بڑا حصہ ہیں۔“ اس کے علاوہ ماحولیات کو شدید نقصان پہنچانے کا ذریعہ وہ لاکھوں ٹن ملبہ بن رہا ہے جو ان حالات کے سبب پیدا ہوتا ہے۔

گوٹیریش کے بقول، ”عراق میں موصل کے 80 فیصد مکانات کی تباہی کے چار سال بعد بھی اندازوں کے مطابق تین لاکھ شہری بے گھر ہیں۔“ انٹونیو گوٹیریش نے ان اعداد و شمار کا ذکر کرتے ہوئے کہا، ”شہروں میں جنگ چھڑنے کی جو خوفناک انسانی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے، یہ ناگزیر نہیں بلکہ انتخاب ہے۔“

انٹونیو گوٹیریش نے جنگجوؤں پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون کا احترام کریں جس کے تحت عام شہریوں اور بنیادی ڈھانچوں پر حملوں کی سخت ممانعت ہے۔ نیز اندھا دھند حملوں اور شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے پر سخت پابندی لگاتا ہے۔

گوٹیریش نے جنگجوؤں سے اپیل کی کہ وہ وسیع علاقوں میں دھماکہ خیز ہتھیاروں کے استعمال کو بند کریں اور ایسا کرتے وقت گنجان آبادی والے علاقوں پر اس کے اثرات کو نظر انداز نہ کریں۔ انسانوں اور ان کے رہائشی علاقوں کو کم سے کم نقصان پہنچانے کا طریقہ تلاش کریں۔

اُدھر انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس کے صدر پیٹر مائیرر نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ شہری علاقوں میں جنگ کے ناقابل قبول نقصانات کے ثبوت موجود ہیں۔ انہوں نے کہا، ”اس صورتحال کا نوٹس لینے اور اس کے خلاف کارروائی کرنے کی بارہا اپیل کی جانے کے باوجود کوئی مثبت نتیجہ سامنے نہیں آیا اور شہری علاقوں میں جنگوں اورحملوں کے سبب شہری آبادی پر بہت گہرے منقی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔“

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment