بلوچ جبری لاپتہ افراد اور شہدا کے بھوک ہڑتالی کیمپ کراچی میں جاری ہے۔ آج کیمپ کو4566 دن ہو گئے۔
اظہار یکجہتی کرنے والوں میں اوتھل سے سیاسی سماجی کارکناں محمد عثمان بلوچ در محمد بلوچ اور دیگر نے آ کر مرد اور خواتین لواحقین سے اظہار یکجہتی کی۔
اس موقع پر وی بی ایم پی کے رہنما ماما قدیر بلوچ نے مخاطب ہوکر کہا کہ تشدد سے جسم ختم ہوتا ہے لیکن نظریہ ختم ہوتا۔ انسان دیکھے جا سکتے ہیں پرکے جاسکتے ہیں تم انہیں پکڑ سکتے ہو ان پر حملہ کر سکتے ہو اور قیدکرکے ان پر مقدمہ چلا سکتے ہو انہیں تختہ دار پرلٹکا سکتے ہو لیکن انکے فکر و خیالات پر اس طرح قابو نہیں پایا جاسکتا۔ وہ نا محسوس طور پر پھیلتے ہیں نفوذ کر جاتے ہیں چھپ جاتے ہیں اور اپنے مٹانے والوں کی نگا ہوں سے مخیفی ہو جاتے ہیں۔روح کی گہرائیوں میں چھپ کر نشو نما پاتے ہیں پھلتے پھولتے ہیں جڑیں نکالتے ہیں جتناتم ان شاخوں کو بے اختیاطی کے باعت ظاہر ہو جائیں کاٹ ڈالوگے اتنا ہی ان کی زمین دوز جڑیں محفبوظ ہوجائیں گی۔
ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ اگر آپ کسی ایک پرامن جدوجہد سے واقف ہیں اور آپ اپنے دل میں یہ سمجھتے ہیں کہ وہ پرامن جہدکے بالکل بر حق ہے لیکن پھر بھی اس کا حصہ بننے سے انکار کردیں تو وہ وقت ہے جب آپ کی موت شروع ہوجاتی ہے اور میں نے اپنی زندگی میں بہت سی چلتی پھرتی لاشیں دیکھیں جو پرامن جدوجہد اور نقصان کی باتیں کرتے ہوئے نہیں تھکے انہوں نے مزید کہا کہ بلوچ نوجوان اپنا قومی فرض۔ فرض شناسی کے ساتھ غرور گھمنڈ خود غرضی کائلی لاپروائی جیسے کینسر سے مکمل طور پر صحت یاب ہوکر تنظیمی سماجی شخصی قبائلی علاقے جیسے ناسور تعصبات سے نکل کر صرف اور صرف بلوچ بن کر مشکل حالات میں اپنی قومی موقف پرڈٹ کر ہمت بہادری کے ساتھ اپنا قومی فرض نبھائیں دشمن کی جانب سے بلوچ قوم کے خلاف مزید بے رحمی زندگی جبر بربریت کی توقح ذہن میں رکھنا چاہیے لیکن لیکن تمام تر ظلم ستم کے باوجود کا میالی لواحقین کی ہوگی کیونکہ یہ ایک تاریخی باب ہے قابض ظالم نے کبھی تشدد کے فلسفے پر کامیابی حاصل کی ہے اور نہ ہی اب کامیابی حاصل کر سکے گا۔
31 اگست 2018 کو بلوچستان کے علاقے نوشکی سے جبری گمشدگی کے شکار ہونے والے آصف اور رشید کی لواحقین کیمپ میں موجود ہیں۔
اس موقع پر سائرہ بلوچ نے اعلان کیا کہ اپنے بھائیوں کی عدم بازیابی کے خلاف کل 22 جنوری بروز ہفتہ شام تین بجے کراچی پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا۔ انہوں نے اہلِ کراچی سے اپیل کی ہے کہ احتجاج میں شرکت کر کے اپنا کردار ادا کرکے ہمارا ساتھ دیں۔