بلوچ لاپتہ افراداور شہدا کا بھوک ہڑتالی کیمپ کراچی میں جاری ہے،احتجاج کو 4561 دن مکمل ہوگئے۔
اظہار یکجہتی کرنے والوالوں میں مسلم لیگ فنکشنل کے کراچی ریس گھوٹ صوبائی جنرل سکرٹری حاجی عبدالودور بلوچ،سینئر نائب صدر عبدالخالق بلوچ اور یگرکا بینہ کے لوگوں نے کیمپ آکر اظہاریکجہتی کی۔
وی بی ایم کے رہنما ماما قدیر بلوچ نے وفود سے کہا کہ بلوچ قوم ہردور میں مصا مصائب ومشکلات سے دوچار رہا ہے۔ پاکستانی قبضے کے بعد بلوچستان کے لوگ ریاستی ظلم بربریت کے لا متناہی سلسلے کا شکار ہیں۔ اس پر مستزاد قدرتی جبر کے سائے بھی تھم نہ سکے۔ کبھی زلزلے کی صورت میں تو کبھی سیلاب وسونامی نے بلوچ قوم سے ان کی سانسیں چیننے کی روایات برقرار رکھی اور بلوچ قوم اپنی وجود سے آج تک ریاستی ظلم و بربریت اور قدرتی آفات سے نبرد آزما ہے۔
انہوں نے کہا کہ پرامن جہد مسلسل کی اس روایات نے بلوچ قوم تاحال اپنے وجود و تشخص برقرار رکھنے میں کامیاب رہا ہے۔ آپریشنوں میں علاقوں کے لوگ بے سروسامانی کی کیفیت میں ہیں۔ ان کے عمر بھر کا ماحصل چھین گیا ہے۔ تپتی دھوپ اور گرم ہواؤں کے تھپیڑ ے،نہ سر پرصاحبان نہ پیروں میں چپل نہ پیٹ میں کھانا نہ ہونٹوں کی پیاس بجھانے کے لئے پانی کی چند بوندیں دستیاب ہیں۔
بچوں کی چیخ و پکار جیسے انمٹ مصائب و زخم اور دوسری طرف فورسز کی آسمان کو چھیرتی راکٹ و گولے باری اور پریشان بلوچ فرزندوں کو آئے روز اغوولا پتہ کرنے جیسے عمل سے ان کے لئے زمین تنگ کر دی گئی ہے۔
ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ لوگوں کی زندگیاں ریاستی جبر کے سائے میں زندانوں میں لاپتہ افراد کے غم میں شاہراؤں پر مارچ، بھوک ہڑتالی کیمپ میں گزر گئیں۔ پورا بلوچستان ماتمی ہے، ریاستی جبر کا اپنی جگہ قدرتی منازل طے کر رہا ہے۔ ہر دو محاذوں کا مقابلہ کرنے کی سکت و ہمت رکھتا ہے۔ بلوچ کٹ رہے ہیں مر رہے ہیں لیکن اپنی شناخت و تشخص کی بیرک کو سدا بلند رکھے ہوئے ہیں جو شہداء کی قربانیوں کے ثمرات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ریاست نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی اپنے آپریشن و بربریت کی سلسلے پھیلا دیے۔لاکھوں لوگ نقل مکانی کرنے پر مجبور ہیں۔ بلوچ قوم غلامی کی وجہ سے ان سارے مصائب و مشکلات کا شکار ہیں۔ بلوچ قوم دنیا میں تمام کٹھن آزمائشوں سے گزر رہی ہے۔