گوادر میں پانی وبجلی کی عدم فراہمی اور غیر قانونی فشنگ کیخلاف 48سے گھنٹوں سے دھرنا جاری ہے جبکہ گوادر ماہیگیر اتحاد کی جانب سے ایک موٹر سائیکل احتجاجی مظاہرہ بھی کیا گیاجسے گوادر آل پارٹیز کی بھی معاونت حاصل رہی۔
گوادرمیں جماعت اسلامی کے صوبائی جنرل سیکریٹری مولانا ہدایت الرحمان کی سربراہی میں سربندن کے مقام پر بجلی اور پانی کی عدم فراہمی کے خلاف کوسٹل ہائی وے پر دھرنا جاری ہے۔
گذشتہ روز صبح 10 بجے سے یہ دھرنا جاری ہے۔ مظاہرین ضلع گوادر کے عوام کے لیے شہری سہولیات کی فراہمی اورچائنیز ٹرالرز اور سندھ ٹرالر مافیا کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
گوادر کے مختلف علاقوں میں ان مظاہروں کا سلسلہ گذشتہ کئی مہینے سے جاری ہیں اور تقریبا ًروزانہ گوادر کے کسی نہ کسی علاقے میں عوام پانی اور بجلی جیسی بنیادی سہولیات کے لیے سڑکوں پر آکر احتجاج کرتے ہیں۔

سربندن دھرنے کا بنیادی مطالبہ شہر میں بجلی اور پانی کی فراہمی ہے لیکن مظاہرین ضلع بھر میں عوام کو درپیش مشکلات کا حل چاہتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ مسائل حل نہ ہوئے تو عوام دوبارہ سڑکوں پر آنے پر مجبور ہوگی۔دھرنے کے شرکاکے مطالبات میں
1۔ ایران بارڈر غریب عوام کے روزگار کے لیے کھولا جائے۔
2۔غیر قانونی ٹرالنگ پر پابندی لگائی جائے۔
3۔بجلی کی غیرضروری لوڈ شیڈنگ ختم کی جائے۔
4۔سیکورٹی فورسز سربندن کے ماہیگیروں کو سمندر میں شکار کے لیے جاتے وقت، تنگ کرنا چھوڑ دیں۔
5۔ ضلع بھر کے تحصیل مراکز اور قصبات (ھورماڑہ، پسنی، جیمڑی اور گوادر) کو صاف پانی اور بجلی فراہم کیا جائے۔
شامل ہیں۔
گذشتہ رات مظاہرین نے سڑکوں پر گزاری، اس حوالے سے مظاہرہ کی قیادت کرنے والے رہنماء مولانا ہدایت الرحمن نے کہا ہے ڈپٹی کمشنر گوادر کی غیر سنجیدگی کی وجہ سے مذاکرات ناکام ہوئے ہیں، ڈی سی گوادر غلط بیانی مت کریں۔
17 اگست کو گوادر میں ہونے والے ایک دھرنے میں غیر ملکی اسسٹنٹ کمشنر گوادر نے دھرنے میں مداخلت کی،مظاہرین پر تشدد کیا جس پر مظاہرین نے اشتعال میں آکر اسٹنٹ کمشنر سے ہاتھا پائی کی، اس کو تھپڑ مارے اور اس کے رویے پر سخت غم و غصے کا اظہار کیا گیا۔سوشل میڈیا پر یہ ویڈیوز وائرل ہوئے جن میں صاف دیکھا جاسکتا ہے کہ اے سی گوادر راجہ اطہر عباس عوام سے بد تمیزی سے پیش آ رہے ہیں۔
ایک ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ وہ پولیس کی بھاری نفری کے ساتھ ایک شخص کے پیچھے دوڑتا ہے اور اسے گردن سے دبوچ کر زد و کوب کرتا ہے، جس پر ایک نوجوان اس کو پیچھے سے تھپڑ رسید کرتا ہے اور اس سے ہاتھ پائی کرنے کی کوشش کرتا ہے جسے دیگر لوگ درمیان میں آکر روک لیتے ہیں۔
اس موقع پر پولیس نے لاٹھی کا آزادانہ استعمال کیا جس سے شرکاء اور مقامی رہنماء زخمی ہوئے۔
آل پارٹیز کیچ کا وفد کنوینر مشکور انور کی سربراہی میں گوادر پہنچا اور انھوں سربندن کے مقام پر جاری مذکورہ دھرنے کی حمایت کا اعلان کیا۔
دھرنے میں پہنچنے پر جماعت اسلامی کے صوبائی جنرل سیکرٹری مولانا ہدایت الرحمن بلوچ ودیگر سیاسی رہنماؤں نے وفد کا استقبال کیا، وفدمیں کنوینر کے علاوہ بی این پی عوامی کے ضلعی صدر ظریف زدگ، جمعیت علماء اسلام کے ضلعی نائب امیر مولانا عبدالحفیظ مینگل، جماعت اسلامی کیچ کے امیر غلام یاسین بلوچ، اور کیچ سول سوسائٹی کے کنوینئر التازسخی شامل تھے۔
وفد نے گذشتہ روز گوادر میں دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ ملاقات کے علاوہ گذشتہ دنوں گوادر انتظامیہ کی جانب سے نیشنل پارٹی کے بزرگ رہنماؤں پر تشدد کے خلاف واجہ اشرف حسین اور دیگررہنماؤں سے اظہار یکجہتی کی۔
جس طرح غیر ملکی اسسٹنٹ کمشنر نے گوادر کے عوام کے پر امن مظاہرے کو سبوتاژ کرنے کی ناکام کوشش کی اسی طرح پنجاب سے گوادر آنے والے غیرملکی سیاحوں نے احتجاجی مظاہرین کی طرف سے راستہ نہ دینے پر زیرو پوائنٹ کے مقام پر گاڑیاں کھڑی کیں اور گوادر کے شہریوں کو گوادر جانے سے روک لیا۔
اس پر تبصرہ کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر صارفین نے کہا کہ پنجاب کے شہریوں کا یہ ردعمل ان کے سیاسی شعور اور بلوچستان کو اپنی کالونی سمجھنے کی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔گوادر کے عوام بنیادی شہری سہولیات کے لیے احتجاج کر رہے ہیں جبکہ وہ اس لیے غصے میں ہیں کہ انھیں احتجاج کی وجہ سے سیر کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ کیا سڑکوں پر دھرنے صرف بلوچستان میں ہوتے ہیں؟
ایک صارف نے لکھا، لاٹ صاحبان کو اس بات کا غصہ نہیں کہ عوام نے سڑک بند کرکے احتجاج کیا ہے بلکہ غصہ اس بات کا ہے کہ بلوچ عوام نے احتجاج کے دوران لاٹ صاحبان کی گاڑیوں کو شہر میں داخلے کی اجازت نہیں دی۔
آج گوادر میں ماہی گیر اتحاد نے شہری مسائل اور ٹرالنگ کے مسئلے پر احتجاجی موٹر سائیکل ریلی نکالی اور پریس کلب کے سامنے مظاہرہ کیا۔انھوں نے کہا کہ سربندن میں دھرنے کو سبوتاژ کرنے کی انتظامیہ کی کوششوں کے خلاف بھرپور مزاحمت کی جائے گی۔