ہر عید کی طرح اس عید میں بھی بلوچ لاپتہ افراد کے اہلخانہ نے اپنے پیاروں کی بازیابی کیلئے کوئٹہ اور کراچی میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔
کوئٹہ میں وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے زیر اہتمام جبری لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے عید کے دن شال پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جبکہ وائس فار مسنگ پرسنز آف سندھ اور سندھ سجاگی فورم کے ساتھ مل کر عید کی رات سے لے کر عید کے دن شام 6 بجے تک کراچی پریس کلب کے سامنے احتجاجی کیمپ لگایا گیا جس میں جبری بلوچ اور سندھ لاپتہ افراد کے لواحقین کے علاوہ سیاسی اور انسانی حقوق کے کارکنان نے بھی جبری لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہار یکجہتی کے لیے شرکت کی۔
کوئٹہ میں احتجاجی مظاہرے سے ماما قدیر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم 14 سالوں سے جبری لاپتہ افراد کے لیے احتجاج کر رہے ہیں اور یہ ہماری 28 ویں عید ہے جس میں ہم احتجاج کرتے آرہے ہیں۔
شال میں پریس کلب کے سامنے مظاہرین سے خطاب کرتے مقررین نے کہا پاکستان کو سامراج نے اپنے مفادات کی چوکیداری کے لیے تشکیل دیا ہے جو قوموں کے وجود تسلیم نہیں کرتا کیونکہ یہ نام نہاد دو قومی نظریے کی بنیاد پر قائم کیا گیا ہے۔اور جب سے یہ ریاست وجود میں آئی ہے ایک دن بھی ایسا نہیں گزرا کہ محکوموں پر جبر نہ کیا گیا ہو۔
’ہمیں قومی سوال کو سمجھنا ہوگا۔اس ریاست کی مذاکرات کے نام پر دھوکا بازی کی تاریخ ہے، خان کلات سے لے کر بابو نوروز تک انھوں نے مذاکرات کے نام پر مظالم ڈھائے ہیں جب تک اس ظالم نظام اور اس ریاست کا وجود ہے مظالم کا خاتمہ ممکن نہیں۔‘
مقررین نے کہا بلوچ اگرچہ ریاست سے برسر پیکار ہیں پھر بھی اگر وہ پکڑے جائیں تو انھیں یہ حق حاصل ہے کہ انھیں عدالت میں پیش کیا جائے۔بین الاقوامی قوانین اور آئین پاکستان کے تحت انھیں جبری گمشدگی سے تحفظ حاصل ہے۔ ریاستی ادارے لوگوں کو جبری لاپتہ کرکے نہ صرف انسانی حقوق بلکہ پاکستان کے آئین کی بھی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔
عید کے روز کراچی پریس کلب کے سامنے بلوچ لاپتہ افراد کے اہلخانہ نے صبح 10 بجے احتجاجی کیمپ لگا یااوراسے شام 6 بجے تک جاری رکھا۔جس میں سندھی لاپتہ افراد کے لواحقین بھی شریک رہے۔
شام کولاپتہ افراد کے اہلخانہ نے ایک احتجاجی مظاہرہ کیاجس میں لاپتہ افرادلواحقین نے اپنے پیاروں کی بازیابی اور انہیں پاکستانی قوانین کے مطابق عدالتوں میں پیش کرنے کا مطالبہ کیا۔
کراچی میں جبری لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے عید کے موقع پر ہونے والے احتجاج کی سربرای جبری لاپتہ بلوچ رہنما ڈاکٹر دین محمد بلوچ کی بیٹی سمی دین بلوچ نے کی۔اس موقع پر میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا ہم گذشتہ رات سے سندھی جبری لاپتہ افراد کے لواحقین کے ساتھ کراچی پریس کلب کے سامنے احتجاجی کیمپ لگا کر بیٹھے ہیں۔ پوری مسلم دنیا عقیدت اور احترام کے ساتھ عید منا رہی اور ہم یہاں بیٹھے ہیں۔
انھوں نے کہا جو ریاست ریاست مدینہ ہونے کا دعوی کرتی ہے وہ اپنے مسلمان شہریوں کے ساتھ یہ سلوک کر رہا ہے جو قابل افسوس ہے۔ آج یہاں چھوٹی بچیاں اور بوڑھی مائیں بیٹھی ہیں اور اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے احتجاج کر رہی ہیں جو ریاست کے ساتھ انسانی حقوق کے اداروں کے عہدیداروں کے منہ پر بھی طمانچہ جو بڑی بڑی کرسیوں پر بیٹھے ہوئے ہیں، بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں لیکن انھوں نے آج ہونے والے اس احتجاج کو نظرانداز کیا ہے۔
انھوں نے انسانی حقوق کے اداروں کی احتجاج میں عدم شرکت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں انسانی حقوق کے دعویدار اداروں کی طرف سے آج کے دن کی مناسبت سے ایک بیان بھی نہیں دیا گیا جو ان کے کردار پر ایک سوالیہ نشان ہے۔
انھوں نے کہا کہ ہم نے جبری لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے ہر دروازہ کھٹکٹایا، ہم نے وزیر اعظم پاکستان عمران خان سے ملاقات کی جنھوں نے ہمیں یقین دہانی کرائی کہ وہ جبری لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے کردار ادا کریں گے اور جبری لاپتہ افراد کو بازیاب کروائیں گے۔ ہمارا سادہ سا مطالبہ ہے کہ ہمیں بتایا جائے کہ ہمارے پیارے کس حال میں ہیں، کہاں ہیں اگر انھوں نے کوئی جرم کیا ہے تو انھیں عدالت میں پیش کیا جائے لیکن آج چار سے پانچ مہینے گزر گئے ہیں لیکن ہمیں ہمارے پیاروں کے حوالے سے کوئی معلومات نہیں دی گئی ہے۔
سمی دین نے کہا کہ جبری لاپتہ افراد کے لیے قائم کمیشن کے سربراہ جاوید اقبال نے ہم پر واضح کیا ہے کہ سنہ 2015 سے پہلے جبری لاپتہ ہونے والے افراد کے حوالے سے وہ کچھ نہیں کہہ سکتے۔پھر ہمارے پاس کیا راستہ رہ گیا ہے، ہم کہاں جائیں؟‘
انھوں نے کہا عید کا دن ایک پرمسرت دن ہے، لوگ خوشیاں مناتے ہیں لیکن ہم احتجاج کر رہے ہیں، یہ مہذب ممالک کے لیے ایک بڑی بات ہے لیکن حکومت پاکستان کو کوئی فرق نہیں پڑتا مگر انسانی حقوق کے اداروں کے نمائندوں کو آج کے دن یہاں ہمارے پاس ہونا چاہئے تھا۔