کوئٹہ سے فورسز ہاتھوں جبری گمشدگی کا شکار ہونے والے علی اکبر مینگل کے والد ولی محمد مینگل نے کہا ہے کہ
بیٹا گھر سے نکلا، کچھ فاصلے پر بغیر نمبر پلیٹ والی گاڑیوں میں سوار اہلکار اس کو زبردستی اپنے ہمراہ لے گئے جس کے بعد وہ تاحال لاپتہ ہے۔
انہوں نے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے کیمپ میں اپنا احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے کیا۔
فورسز ہاتھوں جبری گمشدگی کے شکار نوجوان علی اکبر مینگل کے والد ولی محمد مینگل کا کہنا ہے کہ میرا بیٹا 28 جون 2021 کو سریاب روڈ پر واقع موسیٰ کالونی سے اپنے گھر سے نکلا تھا جس کے بعد وہ لاپتہ ہوگیا، بیٹے کے پاس دو موبائل تھے جو بند ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس کے بعد ہم تھانے گئے اور اپنی مدد آپ کے تحت بھی بیٹے کو ڈھونڈنے کی کوشش کی اس دوران موسیٰ کالونی کے مین روڈ پر کام کرنے والے مزدوروں سے معلوم ہوا کہ مذکورہ مقام بغیر نمبر پلیٹ والی دو گاڑیوں میں سوار ایف سی اہلکار اور سادہ کپڑوں میں ملبوس افراد نے ایک لڑکے کو آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر گاڑی میں پھینک دیا اور لے گئے۔
فورسز ہاتھوں گمشدگی کا شکار علی اکبر کے والد نے کہا کہ میرا بیٹا ایک طالبعلم ہے اور ہمارا ایک غریب گھرانا ہے لہٰذا میرے بیٹے کو پاکستانی خفیہ اداروں سے بازیاب کیا جائے۔