امریکا و برطانیہ،افغانستان و پاکستان مابین سیکیورٹی معاہدے کیلئے کام کر رہے ہیں، خلیل زاد

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

امریکہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد نے کہا ہے کہ امریکہ اور برطانیہ مل کر پاکستان اور افغانستان کے مابین سیکیورٹی تعاون کو بہتر کرنے کے لیے کام کررہے ہیں، جو امریکہ کی امن کوششوں کا اہم حصہ ہے۔ ان کیبقول اس کے نتیجے میں، اسلام آباد اور کابل کے دوران سیکیورٹی معاہدے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

امریکہ کے نمانئدہ خصوصی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد نے یہ بات حال ہی میں جرمن جریدے ’مرر‘ یا ‘ڈئر اشپیگل’ سے ایک انٹرویو کے دوران ایک ایسے وقت کی ہے جب حال ہی میں پاکستان فوج کیسربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے برطانیہ کے فوجی سربراہ جنرل نکولس پیٹرک کارٹر کے ہمراہ کابل میں افغان قیادت سے ملاقات کی تھیں۔ یہ دورہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کو بہتر کرنے کی برطانوی کوششوں کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

خلیل زاد نے کہا کہ اگر افغان امن کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور پاکستا ن اور افغانستان کے درمیان کوئی معاہدہ نہ ہوا تو اس سے پاکستان نقصان میں رہے گا خلیل زاد کے مطابق، اس کا الزام پاکستان پر آئے گا، کیونکہ طالبان کی زیادہ تر قیادت ان کے بقول مبینہ طور پر پاکستان میں مقیم ہے۔

پاکستان کا موقف رہا ہے کہ پاکستان افغان امن عمل میں اپنا مثبت کردار ادا کرتا آرہا ہے، لیکن امن عمل کے سیاسی تصفیے کی ذمہ داری خود افغان فریقوں پر عائد ہوتی ہے۔

امریکی سفارت کار نے کہا کہ امن کے ساتھ پاکستان اور افغانستان، دونوں کا مفاد وابستہ ہے، جو اقتصادی رابطوں اور تجارت و ترقی کے لیے ضروری ہے۔ ان کیبقول، امن عمل کامیاب نہ ہوا، تو اہم مواقع ضائع ہوسکتے ہیں۔

امریکی سفارت کار خلیل زاد نے کہا کہ پاکستان کا افغانستان سے جائز مفاد وابستہ ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ کی جا سکے۔ ان کے بقول افغانوں کو پاکستان کے مفاد کا خیال رکھنا ہوگا۔ اسی طر ح ان کیبقول، افغانستان کے پاکستان کے ساتھ مفادات وابستہ ہے کہ پاکستان کی سرزمین افغانستان کے خلاف استعمال نہ ہو۔

Share This Article
Leave a Comment