میانمار میں جنگی جرائم میں اضافہ ہوا ہے، اقوامِ متحدہ

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں نے منگل کو خبردار کیا کہ میانمار کی فوج کی جانب سے منظم تشدد، اجتماعی زیادتی اور بچوں کے خلاف بدسلوکی سمیت، انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم میں "خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔”

میانمار کے لیے اقوام متحدہ کے ’ آزادانہ تحقیقاتی طریقہ کار ‘ نامی ادارے (آئی آئی ایم ایم) نے کہا ہے کہ میانمار کے اندرتنازعات کے پیشِ نظر اندازہ ہے کہ گزشتہ چھ مہینوں میں تیس لاکھ سے زیادہ لوگ اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

آئی آئی ایم ایم 2018 میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے قائم کیا تھا تاکہ وہ انتہائی سنگین بین الاقوامی جرائم کے شواہد اکٹھے کرے اور فوجداری قانونی چارہ جوئی کے لیے فائلیں تیار کر ے ۔

اس تازہ رپورٹ کے نتائج 900 سے زیادہ ذرائع سے اکٹھی کی گئی معلومات کے تقریباً 28 ملین واقعات کی بنیاد پر تیار کیے گئے تھے ۔ ٹیم نے ویڈیوز، جغرافیائی تصویروں اور فرانزک جیسے شواہد کا بھی مطالعہ کیا۔

ریاست شان کے قصبے لاشیو کی ایک پرانی تصویر جس میں پولیس کو گشت کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ 25 جولائی کو ڈیموکریٹ الائنس آرمی نے اعلان کیا کہ اس نے لاشیو کی فوجی چھاونی پر قبضہ کر لیا ہے ۔ فوجی حکام نے بھی اپنے افسروں کی گرفتاری کا اعتراف کیا ہے۔

آئی آئی ایم ایم کے سربراہ نکولس کومجیان نے کہا ہے ، "ہم نے ایسے خاطر خواہ شواہد اکٹھے کیے ہیں جو پورے میانمار میں بربریت اور انسانیت سوز جرائم کی خوفناک سطح کو ظاہر کرتے ہیں ۔” ۔انہوں نے کہا کہ بہت سے جرائم کا ارتکاب شہری آبادی کو سزا دینے اور دہشت پھیلانے کے لیے کیا گیا ۔

آئی آئی ایم ایم نے یکم جولائی 2023 سے 30 جون 2024 تک کی اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ اس عرصے کے دوران ملک بھر سے پہلے سے زیادہ تعداد میں اور وحشیانہ جرائم کے ارتکاب کی اطلاعات ملیں ۔

تفتیش کاروں نے کہا کہ انھوں نے زیادہ شدید اور پرتشدد جنگی جرائم کے خاطر خواہ شواہد اکٹھے کیے ہیں، جن میں اسکولوں، مذہبی عمارتوں اور اسپتالوں پر فضائی حملے شامل ہیں، جن کا کوئی واضح فوجی ہدف نہیں تھا۔

میانمار کی حکمران جماعت فروری 2021 کی بغاوت میں برسراقتدار آئی تھی جس نے آنگ سان سوچی کی منتخب حکومت کا تختہ الٹ دیا، جمہوریت کے 10 سالہ تجربے کو ختم کیا اور اس ملک کو خونی ہنگامہ آرائی میں دھکیل دیا۔

فوجی جنتا طویل عرصے سے قائم نسلی باغی گروہوں اور نئی جمہوریت نواز قوتوں کی جانب سے اپنی حکمرانی کے خلاف مزاحمت کو کچلنے کی کوشش کر رہی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بغاوت کے بعد کی مخالفت کو دبانے کے حوالے سے دوران حراست "منظم تشدد کے وافر ثبوت” موجود تھے۔

انہوں نے قیدیوں کے جسمانی اعضا کاٹنے کا حوالہ بھی دیا جن میں ان کے سر قلم کر نے اور مسخ شدہ اور جنسی طور پر مسخ شدہ لاشوں کی عوامی نمائش شامل تھی ۔

تفتیش کار بلا جواز حراست اور فوجی ہنتا کے مبینہ مخالفین کے خلاف بظاہر غیر منصفانہ مقدمات سمیت غیر قانونی قید کے بارے میں چھان بین کر رہے ہیں ۔

آئی آئی ایم ایم نے کہا کہ "ہزاروں لوگوں کو گرفتار کیا جاچکا ہے اور بہت سے لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے یا حراست کے دوران ہلاک کر دیا گیا ہے ۔”

تشدد کے طریقوں میں بانس کی لاٹھیوں سے مارنا ،بجلی کے جھٹکے؛ چمٹوں کے ساتھ ناخن اکھاڑنا؛ زیر حراست افراد پرپیٹرول ڈالنا اور جلا ڈالنا؛ واٹر بورڈنگ، گلا گھونٹنا؛ انگلیاں توڑنا؛ اور قیدیوں کو ایک دوسرے کو مکے مارنے پر مجبور کرنا شامل تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ زیر حراست افراد کے خلاف جنسی جرائم کے ارتکاب کے قابل اعتماد شواہد موجود ہیں جن میں بچے اور ہر جنس کےافراد شامل تھے ۔ ان جرائم میں عصمت دری، جسم کے جنسی اعضاء کو سگریٹ سے جلانا اور جنسی تضحیک شامل تھی۔

رپورٹ نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ، ادارے کو توقع ہے کہ اس نے جو شواہد اکٹھے کیے ہیں وہ ایک دن کسی عدالت میں پیش کیے جائیں گے اور قصور واروں کو انصاف کا سامنا کرنا پڑے گا۔”

Share This Article
Leave a Comment