گل زادی بلوچ کو عمر قید کی سزا قوانین کے دائرہ کار سے تجاوز اور سنگین پامالی ہے، سمی دین

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کے رہنما سمی دین بلوچ نے بی وائی سی کی اسیر رہنما گل زادی بلوچ کو سیشن عدالت کی جانب سے عمر قید کی سزا سنائے جانے پر اپنے سخت ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پرامن فعال کارکنان کے خلاف بے بنیاد الزامات کا استعمال اختلافِ رائے کی آوازوں کو خاموش اور جرم قرار دینے کے لیے قوانین کے دائرہ کار سے تجاوز اور سنگین پامالی ہے۔

سمی دین بلوچ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ (X) پر جاری کردہ اپنے ایک بیان میں واضح کیا کہ حکمران طبقات اور اربابِ اختیار کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ پرامن سیاسی جدوجہد اور تحرک کو جرم قرار دینے (Criminalisation) کے یہ سخت اقدامات صرف بلوچستان تک محدود نہیں رہیں گے۔ جب کسی ایک برادری یا قوم کے بنیادی انسانی و آئینی حقوق سلب کیے جاتے ہیں تو پورے پاکستان میں دیگر تمام طبقات اور برادریوں کے حقوق بھی خود بخود شدید خطرے میں پڑ جاتے ہیں۔

سمی دین بلوچ نے ملک بھر کی سول سوسائٹی، قانونی ماہرین، حقوقِ انسانی کے فعال کارکنوں اور صحافی برادری سے زور دار اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بلوچ حقوق کے فعال کارکنوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کریں اور ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں۔

پرامن شہریوں پر جھوٹے مقدمات اور قوانین کے اس کھلم کھلا سوءِ استعمال کے خلاف اپنی آواز بلند کریں۔ تمام شہریوں اور مظلوم طبقات کے بنیادی حقوق کے تحفظ کی اس مشترکہ جدوجہد میں متحد ہو جائیں۔

انہوں نے خبردار کرتے ہوئے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ "آج آپ کی خاموشی اور بے حسی کل کو آپ سب کے لیے اس سے بھی کہیں زیادہ بڑی اور سنگین قیمت کا سبب بن سکتی ہے۔”

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article