نوشکی میں طالبات پر حملہ تعلیم، انسانی اقدار اور بلوچ معاشرتی شعور پر حملہ ہے،پجار

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (بی ایس او) پجار کے مرکزی ترجمان نے نوشکی میں گرلز کالج پر فائرنگ، توڑ پھوڑ اور اس افسوس ناک واقعے کے نتیجے میں تین طالبات کے زخمی ہونے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تعلیمی ادارے علم، شعور، امن اور روشن مستقبل کی علامت ہوتے ہیں۔ ان اداروں کو تشدد اور خوف کا نشانہ بنانا نہ صرف قابلِ مذمت جرم ہے بلکہ بلوچ معاشرے کے تعلیمی، سماجی اور فکری مستقبل پر حملہ ہے۔ طالبات کو نشانہ بنانا ایک انتہائی سنگین، غیر انسانی اور ناقابلِ قبول عمل ہے، جس کی کسی بھی مہذب معاشرے میں گنجائش نہیں ہو سکتی۔

مرکزی ترجمان نے کہا کہ بلوچ معاشرے میں خواتین کی تعلیم محض ایک تعلیمی ضرورت نہیں بلکہ سماجی ترقی، فکری آزادی، قومی شعور اور روشن مستقبل کی بنیادی شرط ہے۔ ایسے عناصر جو بندوق، دھمکی اور تشدد کے ذریعے طالبات کو خوف زدہ کرکے تعلیمی اداروں سے دور کرنا چاہتے ہیں، درحقیقت ایک باشعور، تعلیم یافتہ اور ترقی پسند معاشرے کی راہ میں رکاوٹ بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، یہ حقیقت واضح رہنی چاہیے کہ خوف اور جبر کے ذریعے علم کی جستجو کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔

ترجمان نے مزید کہا کہ ماضی میں بھی بلوچ طالبات پر تیزاب پھینکنے کے واقعات، خواتین کی تعلیم کے خلاف دھمکیوں اور انگریزی زبان کے مراکز کو بند کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے جیسے واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔ ان واقعات نے بارہا اس تشویش کو جنم دیا ہے کہ خواتین کی تعلیم اور خودمختاری کو محدود کرنے کے لیے مختلف ادوار میں مختلف حربے استعمال کیے گئے۔ نوشکی کے گرلز کالج پر آج کا حملہ بھی اسی وسیع تر تناظر میں سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے کہ آخر طالبات کے تعلیمی مستقبل، تحفظ اور بنیادی حقوق کو یقینی بنانے میں ریاستی ادارے کس حد تک کامیاب رہے ہیں۔

بی ایس او پجار کے مرکزی ترجمان نے کہا کہ اگر تعلیمی ادارے محفوظ نہیں، طالبات خوف کے ماحول میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں اور والدین اپنی بچیوں کے تحفظ کے حوالے سے غیر یقینی صورتِ حال سے دوچار ہیں، تو یہ محض امن و امان کا مسئلہ نہیں بلکہ حکومتی ذمہ داریوں، ریاستی ترجیحات اور تعلیمی تحفظ کے نظام پر ایک بنیادی سوال ہے۔ حکومت اور متعلقہ ادارے محض روایتی مذمتی بیانات تک محدود رہنے کے بجائے ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر، شفاف اور قابلِ احتساب اقدامات کریں۔

مرکزی ترجمان نے مطالبہ کیا کہ نوشکی گرلز کالج پر حملے کی فوری، غیر جانب دار اور شفاف تحقیقات کی جائیں، واقعے میں ملوث عناصر کی شناخت کرکے انہیں قانون کے مطابق سزا دی جائے، زخمی طالبات کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور کالج سمیت بلوچستان کے تمام تعلیمی اداروں، بالخصوص طالبات کے اداروں، کی حفاظت کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔ حکومت اس امر کو بھی یقینی بنائے کہ اس واقعے کے متاثرین اور گواہوں کو تحفظ حاصل ہو اور تحقیقات پر کسی قسم کا دباؤ اثرانداز نہ ہو۔

بیان کے اختتام پر ترجمان نے واضح کیا کہ بی ایس او پجار طالبات کے تعلیمی حق، خواتین کی آزادی، فکری خودمختاری اور علم دوست معاشرے کی تشکیل پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ بندوق اور خوف کے ذریعے کتاب، قلم اور شعور کا راستہ روکنے کی ہر کوشش کی بھرپور مزاحمت کی جائے گی۔ بلوچستان کی بیٹیاں تعلیم، وقار اور محفوظ مستقبل کی حق دار ہیں، اور ان کے حقِ تعلیم کا تحفظ حکومت، ریاستی اداروں اور پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article