بلوچستان میں پاکستانی فوج ، خفیہ اداروں اور ڈیتھ اسکواڈز کی جانب سے جبری گمشدگیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ضلع پنجگور اور ضلع کیچ (تربت) سے مزید 5 بلوچ نوجوانوں کو جبری طور پر لاپتہ کر دیا گیا ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین ڈیٹا کارڈ کے مطابق پنجگور سے 2 بلوچ محنت کشوں کو لاپتہ کیا گیا ہے، جبکہ تربت کے علاقے آسکانی آبسر سے حراست میں لیے گئے 3 نوجوانوں کے لواحقین نے حکام سے بازیابی کی اپیل کی ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مطابق پنجگور میں ڈیتھ اسکواڈ کے کارندوں نے 2 نوجوانوں کو اغوا کرنے کے بعد فرنٹیئر کور (FC) کے حوالے کر دیا۔
جن کی شناخت براہیم بلوچ ولد عزیز بلوچ(عمر 20 سال) مزدور (Labourer)،سکونت ریش پیش پروم، پنجگورجنہیں یکم ستمبر 2026 کی رات 10:00 بجے ریش پیش پروم، پنجگورسے ڈیتھ اسکواڈ کی جانب سے اغوا کے بعد ایف سی (FC) کے حوالے کیا گیا۔
جبکہ دوسرے کی شناخت بابو بلوچ ولد نصیر احمد(عمر 15 سال) مزدور (Labourer)سکونت پروم، پنجگور،جنہیں یکم ستمبر 2026 کی رات 10:00 بجے پروم، پنجگورسے ڈیتھ اسکواڈ کی جانب سے اغوا کے بعد ایف سی (FC) کے حوالے کیا گیا۔
ادھر تربت سے جبری لاپتہ کئے گئے نوجوانوں کی شناخت تلا ولد ناگمان حیات (سکونت، کیل کور، حال آسکانی آبسر تربت)بابل ولد چارشمبے (سکونت، کیل کور، حال آسکانی آبسر تربت) اورشمبے ولد شمبے (سکونت، کیل کور، حال آسکانی آبسر تربت) کے ناموں سے ہوگئی ہے ۔
جنہیں تربت کے علاقے آسکانی آبسر سے 24 اکتوبر کی رات تقریباً 8:00 بجے سیکیورٹی اداروں نے ایک سبز رنگ کی 2007 ماڈل گاڑی سے 3 نوجوانوں کو حراست میں لے کر لاپتہ کر دیا۔
متاثرہ نوجوانوں کے لواحقین کا کہنا ہے کہ گرفتاری کو کئی دن بیت جانے کے باوجود ان کے پیاروں کے بارے میں کوئی معلوماتی سراغ نہیں مل سکا ہے، جس کے باعث ان کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
لواحقین نے ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) کیچ اور ڈی پی او سے فوری اپیل کی ہے کہ واقعے کا سخت نوٹس لیا جائے، گرفتار افراد کی موجودہ صورتحال سے آگاہ کیا جائے اور ان کی فوری و محفوظ بازیابی کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں۔