بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) نے نوشکی میں گرلز ڈگری کالج پر مسلح حملے، طالبات کو گولیوں کا نشانہ بنانے اور ‘ویژن پبلک اسکول’ کو جبری طور پر بند کروانے کے سنگین واقعات پر اپنے شدید ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے ان مظالم کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے اور ان تمام واقعات کی تمام تر ذمہ داری براہِ راست ریاست پر عائد کی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ "گزشتہ روز 27 اکتوبر کو مسلح افراد نوشکی کے گرلز ڈگری کالج میں داخل ہوئے اور وہاں زیرِ تعلیم طالبات پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ اس بزدلانہ عمل کے نتیجے میں سترہ اور اٹھارہ سالہ تین بلوچ بیٹیاں صرف اس جرم میں گولیوں کا شکار ہوئیں کہ وہ تعلیم حاصل کرنے کے لیے کلاس روم میں موجود تھیں۔ اسی دن، مسلح افراد نے قادر آباد میں واقع ‘ویژن پبلک اسکول’ میں داخل ہو کر اسے بھی جبری طور پر بند کروا دیا۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی ان دونوں حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہے اور ریاست کو اس کی مکمل ذمہ دار ٹھہراتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ 27 اکتوبر کی صبح 11 سے 12 بجے کے درمیان تین نقاب پوش مسلح افراد کالج کی عمارت میں داخل ہوئے اور سیدھے پرنسپل کے دفتر گئے، جہاں انہوں نے فرنیچر کو توڑ پھوڑ کا نشانہ بنایا اور سیکیورٹی کیمروں کو تباہ کر دیا۔ اس کے بعد وہ طالبات کی طرف بڑھے، انہیں دھمکیاں دیں، حرکت نہ کرنے کا حکم دیا اور کالج کے اندر فائرنگ شروع کر دی۔
ترجمان کے مطابق فائرنگ کے نتیجے میں سیکنڈ ایئر کی 17 سالہ طالبہ مریم گولی لگنے سے زخمی ہوئیں، جن کے جسم سے ڈاکٹروں نے گولی نکال لی ہے اور وہ کوئٹہ میں زیرِ علاج ہیں۔ سیکنڈ ایئر ہی کی 18 سالہ طالبہ رخسانہ کے پیٹ اور ریڑھ کی ہڈی میں شدید گولیاں لگیں؛ ان کا آپریشن ہو چکا ہے لیکن ایک گولی اب بھی ان کے جسم میں موجود ہے اور وہ کوئٹہ میں زندگی اور موت کی کشمکش میں زیرِ علاج ہیں۔ جبکہ 17 سالہ میمونہ کی ٹانگ میں گولی لگی، جو خطرے سے باہر ہیں اور انہیں گھر منتقل کر دیا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ اس حملے سے کچھ ہی دیر قبل، مسلح افراد نے قادر آباد کے ‘ویژن پبلک اسکول’ میں داخل ہو کر بچوں کو ہراساں کیا، اسکول کو بند کروا دیا اور انتظامیہ کو وارننگ دی کہ اگر اسکول دوبارہ کھولا گیا تو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ یہ سلسلہ آج سے شروع نہیں ہوا؛ اس سے قبل رواں سال پروفیسر غمخوار حیات کو اسی کالج سے محض چند میٹر کے فاصلے پر گولی مار کر شہید کر دیا گیا تھا۔ اب بندوقیں کالج کی دیواروں کے اندر پہنچ چکی ہیں۔ دیوار کے باہر ایک استاد کا قتل، دھمکیوں سے اسکول کی بندش اور کالج کے اندر طالبات پر فائرنگ—بلوچستان میں کوئی بھی شخص اسے محض اتفاق یا بے مقصد واقعہ نہیں مانتا۔
کمیٹی نے واقعہ پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ پرنسپل نے حملہ آوروں کی آمد سے 10 سے 15 منٹ قبل ہی اپنا دفتر لاک کر کے کالج کیوں چھوڑا؟۔موٹر سائیکلوں پر سوار افراد، جن کے لیے باہر ایک گاڑی بھی انتظار کر رہی تھی، دن دہاڑے اتنی آسانی سے کیسے فرار ہو گئے؟۔ تحفظ کے نام پر قائم ایف سی (FC) کی چیک پوسٹ کالج کے بالکل قریب واقع ہے، لیکن حملہ آور اسی راستے سے نکلے اور کسی نے انہیں نہیں روکا؟ وہ چیک پوسٹ آخر کس کے تحفظ کے لیے قائم ہے؟
بیان میں کہا گیا کہ ان سوالات کا جواب بالکل واضح ہے۔ یہ ریاست کے وہ ‘ڈیتھ اسکواڈز’ ہیں، جنہیں ریاست نے اپنے یونیفارم کے بغیر گندے کام سرانجام دینے کے لیے پال رکھا ہے۔ یہ کارندے انہی چیک پوسٹوں سے باآسانی آتے جاتے ہیں جہاں عام بلوچ شہریوں کو روک کر ذلیل و خوار کیا جاتا ہے۔ یہ کوئی سیکیورٹی کی ناکامی نہیں بلکہ ریاست کی طرف سے دی گئی کھلی اجازت ہے۔
کمیٹی کے مطابق ریاست کسی بھی دوسری چیز کے مقابلے میں ایک تعلیم یافتہ بلوچ عورت سے سب سے زیادہ خوفزدہ ہے۔ ایک ایسی عورت جو پڑھتی ہے، سوال کرتی ہے، اجتماعات میں بولتی ہے اور احتجاجی مارچز کی قیادت کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گولیوں کا رخ گرلز کالج کی طرف موڑا گیا ہے۔ وہ ہماری بیٹیوں کو چار دیواری کے اندر، خاموش اور خوفزدہ دیکھنا چاہتے ہیں، اور والدین کو اس بات پر مجبور کرنا چاہتے ہیں کہ وہ اپنی بیٹیوں کو اسکول نہ بھیجیں۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ حملے آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 9 (جو ہر شہری کی زندگی کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے) اور آرٹیکل 25-A (جو ہر بچے کے لیے مفت اور لازمی تعلیم کو بنیادی حق قرار دیتا ہے) کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ اس کے علاوہ یہ اقدامات پاکستان کی ان بین الاقوامی ذمہ داریوں کی بھی نفی کرتے ہیں جو اس نے ‘معاشی، سماجی اور ثقافتی حقوق کے بین الاقوامی معاہدے’ اور ‘خواتین کے خلاف تمام اقسام کے امتیاز کے خاتمے کے کنونشن (CEDAW)’ کے تحت قبول کر رکھی ہیں۔ جس ریاست کی آئینی ذمہ داری ان لڑکیوں کا تحفظ تھی، وہی مسلح افراد کو اپنی چیک پوسٹوں سے باآسانی گزرنے دے رہی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی اس خوف کو مکمل طور پر رد کرتی ہے جو ہر بلوچ کے گھر میں بٹھانے کی کوشش کی جا رہی ہے، اور ہم کسی بھی ایسے نام نہاد انکوائری کمیشن کو قبول نہیں کریں گے جس کا اختتام صرف ایک سیل شدہ فائل پر ہو۔
‘انہوں نے کہا کہ ویژن پبلک اسکول’ کو اساتذہ اور بچوں کی حفاظت کی مکمل ضمانت کے ساتھ فوراً دوبارہ کھولا جائے۔ریاست عوامی سطح پر وضاحت کرے کہ مسلح افراد بغیر کسی رکاوٹ کے ایف سی چیک پوسٹ سے کیسے گزرے؟ نوشکی گرلز کالج حملے اور پروفیسر غمخوار حیات کے قتل کی ایک غیر جانبدار اور آزادانہ تحقیقات کروائی جائیں، نا کہ انہی اداروں سے جو قاتلوں کو باآسانی فرار ہونے دیتے ہیں۔
آخر میں انہوں نے قومی و بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ نوشکی میں تعلیم پر ہونے والے ان مظالم کا فوری نوٹس لیں، ایک آزاد حقائق تلاش کرنے والا (Fact-finding) مشن بھیجیں اور پاکستانی ریاست کو جوابدہ بنائیں۔