بلوچستان میں سیکیورٹی صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے جہاں ایک طرف مسلح افراد نے ضلع بولان کے شہر بھاگ کا کنٹرول سنبھالنے کا دعویٰ کیا ہے، وہیں زیارت کراس کے مقام پر پاکستانی فوج پر ہونے والے مہلک حملے کے بعد بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے واقعے کا ویڈیو ٹریلر جاری کر دیا ہے۔
آج کی تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، مسلح افراد کی ایک بڑی تعداد اچانک بھاگ شہر میں داخل ہو گئی اور انہوں نے متعدد اہم سرکاری و دفاعی تنصیبات بشمول پولیس اسٹیشنز اور بینکوں کا مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔
بھاگ شہر کے مختلف علاقوں اور چوراہوں پر سیکیورٹی فورسز اور مسلح افراد کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے اور اب بھی حالات شدید کشیدہ بتائے جاتے ہیں۔
دوسری جانب، زیارت کراس کے مقام پر پاکستانی فوج کے قافلے اور ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) پر ہونے والے حملے کے بعد بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے اپنے آفیشل میڈیا چینل ‘ہکل’ پر 1 منٹ 11 سیکنڈ دورانیے پر مشتمل ویڈیو کا ٹریلر جاری کیا ہے۔
ویڈیو ٹریلر میں جدید ترین اسلحے سے لیس سرمچاروں کو فورسز کی تباہ شدہ اور نذرِ آتش گاڑیوں کے قریب دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ سیکیورٹی اہلکاروں کی لاشیں بکھری پڑی ہیں اور سرمچار فورسز کا سرکاری اسلحہ تحویل میں لے رہے ہیں۔
بی ایل اے کا کہنا ہے کہ اس باقاعدہ ویڈیو کو جلد مکمل طور پر ریلیز کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے بی ایل اے نے 18 سیکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا۔
اسی مقام زیارت کراس/خانی بابا پر کوئٹہ ژوب قومی شاہراہ کے قریب مسلح افراد نے ایک پیش رفت میں ایک بڑی تعمیراتی کمپنی کو نشانہ بنایا۔
اس کارروائی کے دوران 8 ڈمپر، 2 کیٹ (CAT) لوڈرز، 1 ہٹاچی ایکسکیویٹر، 1 ٹریلر، 1 بٹومین ڈسٹری بیوٹر اور 1 واٹر باؤزر سمیت کروڑوں روپے کی بھاری مشینری کو نذرِ آتش کر کے مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔
تاہم، اس تعمیراتی کمپنی پر حملے کی ذمہ داری تاحال کسی بھی مسلح تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔