بلوچستان کے علاقے خاران میں پاکستانی فوج کی سیکورٹی ذرائع سے یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کرتے ہوئے 7 مسلح افراد کو ہلاک کردیاہے۔
سیکورٹی ذرائع کے مطابق یہ کارروائی خاران کے علاقے لجے میں مسلح افراد کی موجودگی کی اطلاع پر کی گئی جہاں 7 مسلح افراد ہلاک ہوگئے جبکہ متعدد زخمی بھی ہوئے۔
سکیورٹی ذرائع کے دعوے کے مطابق مسلح افراد کے ٹھکانوں سے جدید اسلحہ، گولہ بارود اور دیگر جنگی سامان بھی برآمد ہوا ہے اس کے علاوہ وہاں ایک موٹر سائیکل اور 2 گاڑیاں بھی ملی ہیں اور سکیورٹی فورسز نے مذکورہ ٹھکانوں کو مکمل تباہ کر دیے ہیں۔
دعوے میں مزید کہا گیا کہ مسلح افراد بھتہ خوری، اغوا، ٹارگٹ کلنگ، خودکش حملوں کی منصوبہ بندی میں ملوث تھے۔
سکیورٹی ذرائع نے دعویٰ کیا کہ مطابق آپریشن ردالفتنہ 3 کے تحت عسکریت پسندی کے خاتمے کیلئے کارروائیاں جاری ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی خضدار میں فوج نے 10 مسلح افراد کومارنے کا بھی عویٰ کیا تھا۔
ماضی کی طرح فوج کی جانب سے کئے گئے دعوئوں کے بعد مذکورہ مبینہ کارروائی میں ہلاک افراد کی نہ شناخت ظاہر کی گئی ہے اور نہ ہی ان کی لاشیں کسی ہسپتال میں منتقل کرنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
حسب روایت اب تک مذکورہ ہلاک افراد کی شناخت میڈیا میں ظاہر نہیں کی گئی اور نہ ہی لاشیں کسی ہسپتال میں منتقل کرنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں ۔گذشتہ تین چار دنوں سے بلوچستان بھر مسلح تنظیموں کی جانب سے مہلک حملے ہورہے ہیں جس سے درجنوں کی تعداد میں فورسز اہلکاروں کی ہلاکت کی ذمہ داری مسلح تنظیمیں قبول کر چکی ہیں۔
بی ایل اے کی جانب سے گذشتہ روز جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مسلح افراد کے حملوں کے ردعمل میں پاکستانی فوج جبری لاپتہ افراد اور اس کے قید میں بلوچ نہتے افراد کوقتل کر رہی ہے ۔
یاد رہے کہ اس سے قبل بھی فوج پر حملوں کے ردعمل میں کئی افراد کو مسلح افراد کے نام پر فورسز نے دوران کارروائی ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا بعد ازاں ان کی شناخت پہلے سے جبری لاپتہ افراد کے طور پر سامنے آئی تھیں۔جنہیں دوران حراست اور جعلی مقابلوں میں قتل کرکے جنگی جرائم کا ارتکاب کیا گیا تھا۔