بلوچ نیشنل موومنٹ کے سابق چیئرمین خلیل بلوچ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ سوراب میں پاکستانی فوج کے جیٹ طیاروں کی نہتے لوگوں اور شہری آبادی پر بمباری ایک انتہائی سنگین جنگی جرم اور انسانی اقدار کی بدترین پامالی ہے۔ اس حملے میں بیس سے زائد افراد شہید ہوچکے ہیں، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں جبکہ متعدد افراد زخمی ہیں۔ یہ محض بیس سے زائد افراد کا قتل نہیں، بلکہ پوری بلوچ شہری آبادی کو واضح پیغام دینا ہے کہ وہ اپنے گھروں اور شہروں میں بھی محفوظ نہیں۔ شہری آبادی کے خلاف فضائی طاقت کا استعمال بین الاقوامی جنگی قوانین اور انسانی اقدار کی کھلی پامالی ہے، جس کی آزادانہ اور غیر جانب دار بین الاقوامی تحقیقات ناگزیر ہیں۔
خلیل بلوچ نے کہا کہ سوراب کوئی پہاڑی محاذ یا گوریلا کیمپ نہیں، ایک شہر ہے جہاں عام لوگ اپنے خاندانوں کے ساتھ رہتے ہیں۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران پاکستانی فوج بلوچستان کے مختلف علاقوں میں جیٹ طیاروں سے بمباری کرتی رہی ہے، تاہم اس سے قبل فضائی حملوں میں زیادہ تر پہاڑی علاقوں اور دور دراز آبادیوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا۔ سوراب میں جو کچھ ہوا وہ ایک انتہائی خطرناک حد عبور کرنے کے مترادف ہے۔ اب جیٹ طیاروں کا رخ براہِ راست شہری آبادی کی طرف کردیا گیا ہے۔ یہ اس امر کا اعلان ہے کہ پاکستانی فوج خود کو اس مقام پر سمجھنے لگی ہے جہاں اسے نہ قانون کا خوف ہے، نہ انسانی اقدار کی پروا اور نہ ہی کسی مؤثر عالمی ردعمل کا اندیشہ۔
انہوں نے کہا کہ اس واقعے کے بعد پاکستانی فوج کی جانب سے اپنے عمل سے انکار اور ایک من گھڑت متبادل بیانیہ پیش کرنا جرم کی سنگینی کو کم نہیں کرتا۔ بیس سے زائد شہادتیں، زخمی لوگ اور متاثرہ خاندان ایسے حقائق ہیں جن کے بارے میں دنیا کو صرف حملہ آور کے موقف پر انحصار نہیں کرنا چاہئے، دوسری طرف کمزور سہی لیکن ایک قوم ہے، جس کا نسل کشی ہو رہا ہے۔ سوراب کے متاثرین کی آواز سنے بغیر اور حقائق نظر انداز کرکے محض پاکستانی فوج کے بیانیے کو خبر اور حقیقت کے طور پر دنیا تک پہنچانا بلوچ قوم کے ساتھ ہونے والی ناانصافی میں ایک اور اضافہ ہوگا۔
خلیل بلوچ نے کہا کہ ہم عالمی برادری، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ سوراب واقعے کو ایک اور واقعہ سمجھ کر نظرانداز نہ کیا جائے۔ اس حملے کی فوری، آزادانہ اور بین الاقوامی تحقیقات کرائی جائیں، غیر جانب دار مبصرین اور صحافیوں کو متاثرہ علاقے تک رسائی دی جائے اور ذمہ داروں کا تعین کرکے انہیں جواب دہ بنایا جائے۔ اگر ریاست پاکستان کو شہری آبادی پر جیٹ طیارے استعمال کرنے کے بعد بھی کسی مؤثر عالمی جواب دہی کا سامنا نہ ہوا تو یہ خاموشی صرف ایک واقعے کو دفن نہیں کرتی، بلکہ اگلے حملے کے لیے راستہ بھی ہموار کرتی ہے۔