ایمان اور ہادی کو 10 سالہ قید کی سزا آزادیِ اظہار اور انصاف پر حملہ ہے، بی ڈبلیو ایف

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچ وومن فورم (BWF) نے معروف انسانی حقوق کی وکیل ایمان زینب مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو دس سال قید کی سزا سنائے جانے کے فیصلے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے بنیادی حقوق، آزادیِ اظہار رائے اور انصاف کے مسلمہ اصولوں پر براہِ راست حملہ قرار دیا ہے۔

بلوچ وومن فورم کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اختلافِ رائے کو دباؤ میں لانے اور انسانی حقوق کے محافظوں کو نشانہ بنانے کے لیے انسدادِ دہشت گردی کے قوانین کا استعمال قانون و انصاف کے نظام کا انتہائی تشویشناک اور سنگین استحصال ہے۔ ایمان مزاری نے ہمیشہ مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہو کر ریاستی تجاوزات کو چیلنج کیا اور ان لوگوں کے لیے آواز اٹھائی جنہیں انصاف سے محروم رکھا گیا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ انسانی حقوق کے تحفظ اور پاسداری کی پاداش میں سزا دینا ان تمام افراد کے لیے ایک خوفناک پیغام ہے جو ناانصافی کے خلاف بولنے کی جرات کرتے ہیں۔ جو نظام انصاف کا تقاضا کرنے والوں کو قید کرے اور اختلافِ رائے کو خاموش کرائے، وہ آئین اور قانون کی حکمرانی کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔

فورم کے ترجمان نے کہا کہ بلوچ خواتین جبر و استبداد کے خلاف آواز اٹھانے کی قیمت سے اچھی طرح واقف ہیں، اسی لیے انسانی حقوق کے فعال کارکنوں کو نشانہ بنانے اور بنیادی آزادیوں کو پامال کیے جانے پر ہم خاموش نہیں رہ سکتے۔ یہ فیصلہ صرف دو افراد پر حملہ نہیں بلکہ یہ ہر اس شہری کے حق پر حملہ ہے جو اقتدار سے سوال کرنے، احتساب کا مطالبہ کرنے اور ظلم کے خلاف کھڑا ہونے کی جرات رکھتا ہے۔

بلوچ وومن فورم نے مطالبہ کیا ہے کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو فوری طور پر بلا مشروط رہائشی فراہم کی جائے۔ انسانی حقوق کے فعال کارکنوں اور وکلاء کے خلاف انتقامی کارروائیوں اور ان کی سیاسی و قانونی ہراسانی کا سلسلہ بند کیا جائے۔ منصفانہ ٹرائل اور آئینی آزادیوں کی فراہمی کے لیے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا جائے۔

بیان کے اختتام میں کہا گیا کہ اختلافِ رائے کو جرم بنانا اور مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہونے والوں کے خلاف عدالتی نظام کو بطورِ ہتھیار استعمال کرنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ انسانی حقوق کا دفاع کوئی جرم نہیں ہے اور سچائی کو خاموش کرانا ہرگز انصاف نہیں ہو سکتا۔

Share This Article