بلوچستان کے علاقے جھل مگسی میں نامعلومسلح افراد کی فائرنگ سے مسجد کے پیش امام ہلاک ہوگیاجبکہ پنجگور کے علاقے گوارگو سے ایک نامعلوم شخص کی نعش برآمدہوئی ہے۔
ضلع جھل مگسی کے علاقے گوٹھ راہیجہ محمدانی میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے ایک مسجد کے پیش امام ہلاک ہو گئے۔
ذرائع کے مطابق مقتول کی شناخت غازی خان ولد محمد بخش کھوسہ کے نام سے ہوئی ہے، جو ضلع قمبر شہدادکوٹ (سندھ) کے رہائشی تھے اور گزشتہ کچھ عرصے سے گوٹھ راہیجہ محمدانی کی مقامی مسجد میں بطور پیش امام فرائض انجام دے رہے تھے۔
بتایا جاتا ہے کہ نامعلوم حملہ آوروں نے کلاشنکوف سے اندھا دھند فائرنگ کر کے انہیں قتل کر دیا اور موقع سے فرار ہو گئے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی ڈی ایس پی جھل مگسی سرکل، ایس ایچ او جھل مگسی سٹی اور پولیس کی بھاری نفری فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئی۔
پولیس نے لاش کو اپنی تحویل میں لے کر ضروری قانونی کارروائی کے لیے رورل ہیلتھ سینٹر جھل مگسی منتقل کر دیا۔
پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر کے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، جبکہ حملہ آوروں کی تلاش کے لیے مختلف پہلوئوں سے تفتیش جاری ہے۔
واقعے کے محرکات تاحال سامنے نہیں آ سکے، تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات کو ہر زاویے سے آگے بڑھایا جا رہا ہے اور ملزمان کو جلد قانون کی گرفت میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب پنجگور کے علاقے گوارگو سے ایک نامعلوم شخص کی نعش برآمد ہوئی ہے۔
~
ذرائع کا کہنا ہے کہ برآمد ہونے والے نامعلوم شخص کی نعش کو ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق نعش گذشتہ روز پنجگور کے علاقے گوارگو سے برآمد ہوئی ہے ۔ جس کو فائرنگ کرکے قتل کیا گیا تھا۔
نعش ہسپتال منتقل کردی گئی جس کو ضروری کارروائی کے بعد شناخت کے لئے مردہ خانے میں رکھ دیا گیا۔
مزید کارروائی پنجگور پولیس کررہی ہے۔