بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیرِ اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ آج 6403ویں روز بھی جاری رہا۔
اس موقع پر بی ایس او کے سابق چیئرمین مہیم خان بلوچ نے احتجاجی کیمپ کا دورہ کیا اور لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہارِ یکجہتی کیا۔
مہیم خان بلوچ نے جبری گمشدگیوں کے خاتمے، لاپتہ افراد کی بازیابی اور ماورائے عدالت قتل جیسے واقعات کی روک تھام کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے لاپتہ افراد کے لواحقین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے مطالبات کی حمایت کی۔
دریں اثنا، جبری لاپتہ محمود علی لانگو کی والدہ نے بھی احتجاجی کیمپ میں شرکت کی اور اپنے بیٹے کی عدم بازیابی کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرایا۔
انہوں نے بتایا کہ ان کا بیٹا 18 جون 2024 سے جبری طور پر لاپتہ ہے۔ اس دوران وہ اپنے بیٹے کی بازیابی اور انصاف کے حصول کے لیے عدلیہ، کمیشن اور دیگر متعلقہ اداروں کے دروازے کھٹکھٹانے کے ساتھ مسلسل پُرامن احتجاج کرتی آ رہی ہیں، لیکن افسوس کہ اب تک انہیں انصاف فراہم نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ اپنے بیٹے کی طویل گمشدگی کے باعث ان کا خاندان شدید کرب اور ذہنی اذیت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے، جبکہ متعلقہ اداروں کی جانب سے تاحال انہیں کوئی خاطر خواہ ریلیف نہیں ملا۔
محمود علی لانگو کی والدہ نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ ان کے بیٹے کی بحفاظت بازیابی کو یقینی بنایا جائے۔ اگر ان پر کوئی الزام ہے تو انہیں منظرِ عام پر لا کر عدالت میں پیش کیا جائے اور ملکی قوانین کے مطابق قانونی کارروائی کی جائے، تاکہ خاندان کو اس طویل اذیت اور غیر یقینی صورتِ حال سے نجات مل سکے۔