بلوچستان کے علاقے خضدارمیں ڈیجیٹل لائبریری میں طلبہ کی رجسٹریشن کی بحالی اور میل و فیمیل طلبہ کی علیحدہ تقسیم کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ کے مطالبات مذاکرات کے بعد تسلیم کر لیے گئے، جس کے بعد طلبہ نے اپنا دھرنا ختم کر دیا۔
ذرائع کے مطابق ڈپٹی کمشنر خضدار کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ خضدار کی دونوں ڈیجیٹل لائبریریوں میں طلبہ کو بلا تفریق تعلیم حاصل کرنے اور مطالعہ کرنے کی اجازت ہوگی۔ طلبہ اپنی سہولت اور رہائش کے مطابق کسی بھی لائبریری سے استفادہ کر سکیں گے۔
مذاکرات میں یہ بھی طے پایا کہ پہلے منسوخ کی گئی طلبہ کی رجسٹریشنز دوبارہ بحال کی جائیں گی، جو احتجاجی طلبہ کے اہم مطالبات میں شامل تھا۔
ذرائع کے مطابق کٹھ پتلی وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے بھی براہِ راست ٹیلیفون پر مظاہرین سے گفتگو کرتے ہوئے ان کے مطالبات پر عملدرآمد کی یقین دہانی کرائی۔
واضح رہے کہ طلبہ گزشتہ چند روز سے علامہ محمد عمر دین پوری ڈیجیٹل لائبریری میں رجسٹریشن کی منسوخی اور میل و فیمیل طلبہ کی علیحدگی کے فیصلے کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔