بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کی مرکزی رہنما سمی دین بلوچ نے تنظیم کی اسیر قیادت کو سنائی جانے والی عمر قید کی سزا پر اپنے ایک خصوصی ویڈیو بیان میں عدالتی کارروائی کو مسترد کرتے ہوئے عزم ظاہر کیا ہے کہ مقتدرہ کے یہ جابرانہ اقدامات عوامی تحریک کو خاموش نہیں کر سکتے۔
انہوں نے کہا کہ جس انداز میں بی وائی سی کی گرفتار قیادت کے مقدمات کو اچانک جیل عدالتوں سے ویڈیو لنک کے ذریعے چلائے جانے والے ‘فیس لیس ٹرائلز’ (پوشیدہ مقدمات) میں تبدیل کر کے تیز کیا گیا، اور سماعت کی تاریخوں کو بار بار ملتوی کیا گیا، وہ عدلیہ کی گہری مایوسی اور بے چینی کو ظاہر کرتا ہے۔ پراسیکیوٹر کا بار بار یہ اصرار کہ ٹرائل کو آگے بڑھایا جائے اور انہیں سزا دی جائے، نے ہمارے سامنے یہ بات پوری طرح واضح کر دی تھی کہ آرڈرز (احکامات) اوپر سے آئے ہیں، اور عدالت اب اپنی رسمی کارروائیاں مکمل کرنے کے لیے تیزی سے حرکت کرے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ 22 جون کو سنائی جانے والی غیر منصفانہ سزا نہ صرف ایک منصفانہ ٹرائل کا مذاق ہے، بلکہ یہ اس ملک کے اپنے قانون اور آئین کا جنازہ ہے، اور یہ تاریخ کے تاریک ترین ابواب میں سے ایک کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ وہ ایف آئی آر (FIR) جس پر یہ سزا مبنی ہے، خود متنازع ہے: ایک ہی واقعے پر دو الگ الگ ایف آئی آرز درج کی گئی ہیں، جس میں ایک ہی شخص پر دو بالکل مختلف طریقوں سے قتل کا الزام لگایا گیا ہے۔ یہ اکیلی بات واضح کرتی ہے کہ قانونی یا مادی طور پر اس کیس کا کوئی وجود ہی نہیں ہے۔ اور جس طرح سے اس من گھڑت قتل کو بنیاد بنا کر ہمارے ساتھیوں، بی وائی سی کے رہنماؤں کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے، وہ ریاست کی مایوسی اور اس کی سبکی کے سوا کچھ نہیں ہے۔
سمی دین بلوچ نے کہا کہ یک سوال اٹھایا جانا چاہیے، اگر یہ کیس اور قتل سے متعلق یہ ایف آئی آر حقیقی معنوں میں موجود تھی، تو بی وائی سی کے رہنماؤں کو گزشتہ پندرہ مہینوں سے کیوں حراست میں رکھا گیا؟ اگر ثبوت موجود تھے، تو اتنا وقت کیوں لگا — اس کیس کو ان کے گرد بننے سے پہلے انہیں ایم پی او (MPO) کے تحت کیوں پھنسایا گیا؟ یہ سب کچھ پوری دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکا ہے کہ ریاست نے بی وائی سی کے رہنماؤں کو قید کرنے کے لیے کس طرح اپنے ہی قوانین اور آئین کا استعمال کیا ہے۔
انہوںنے کہا کہ جب بلوچستان میں روزانہ کی بنیاد پر ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں اور مسخ شدہ لاشیں پھینکی جاتی ہیں، تو میں ہر سیکیورٹی فورس، ہر بریگیڈیئر، ہر کرنل، ہر انٹیلی جنس ایجنسی، ایم آئی (MI)، آئی ایس آئی (ISI) اور دیگر تمام کو — انفرادی طور پر سخت ترین احتساب کا حقدار سمجھتی ہوں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے انصاف فراہم کیا ہے۔ ایک شخص صرف اسی وقت منصف کہلا سکتا ہے جب وہ دونوں طرف ایک ہی معیار کا اطلاق کرے۔
بی وائی سی رہنما نے کہا کہ یہ واضح ہے کہ بلوچستان میں کس قسم کی سوچی سمجھی سازش کام کر رہی ہے۔ ایک ایسی سازش جس کا مقصد سب سے نمایاں آوازوں کو دبانا ہے، تاکہ لوگوں کے دلوں سے پرامن اور منظم جدوجہد کے تصور کو ہی ختم کر دیا جائے۔ لیکن ہم متزلزل نہیں ہوں گے۔ اسی دھرتی پر رہتے ہوئے، ہم اس جدوجہد کو آگے بڑھائیں گے، ہم انسانی حقوق کی جنگ کو آگے بڑھائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ مشن جو ڈاکٹر ماہ رنگ اور صبغت اللہ شاہ جی کا تھا، وہ ہم سب کا ہے، بلوچستان کے ہر بچے کا ہے، اور ہر اس بچے کا ہے جس نے ریاستی بربریت کا مشاہدہ کیا ہے اور اس کے سائے میں بڑا ہوا ہے۔ اور آپ کتنے لوگوں کو جیلوں میں ڈالیں گے؟ آپ کتنی آوازوں کو خاموش کریں گے؟ آپ کا خیال ہے کہ اس طرح کے ہتھکنڈوں سے آپ لوگوں کو خاموشی پر مجبور کر سکتے ہیں، لیکن بالکل نہیں۔ آپ گزشتہ چھہتر (76) سالوں سے بالکل یہی کر رہے ہیں، اور آپ دیکھ چکے ہیں کہ اس کے نتائج کیا نکلے ہیں۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ آپ کے ہر جبر کے عمل نے مزاحمت کو جنم دیا ہے۔ ہم اسے آپ کی سب سے بڑی ناکامی سمجھتے ہیں، اور اپنی جدوجہد کے ذریعے ہم یہ آپ کو ثابت کر کے دکھائیں گے۔