بلوچستان کے مستونگ کے سرحدی علاقے لک پاس کے قریب غنچہ ڈھوری کے مقام پر نامعلوم موٹر سائیکل سوار مسلح افراد نے اندھا دھند فائرنگ کر کے وزیر اعلیٰ ہائوس بلوچستان کے ملازم اور اس کے بھائی کو قتل کر دیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق، یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب مقتولین پنجپائی سے کوئٹہ جا رہے تھے کہ راستے میں گھات لگائے حملہ آوروں نے ان کی گاڑی پر مبینہ طور پر ٹارگٹ فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں دونوں بھائی موقع پر ہی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔
فائرنگ کے بعد ملزمان جائے وقوعہ سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
پولیس حکام نے لاشوں کو تحویل میں لے کر قریبی ہسپتال منتقل کیا، جہاں مقتولین کی شناخت انعام اللہ شاہ مشوانی اور فرید اللہ شاہ مشوانی کے ناموں سے ہوئی، جو پنجپائی تحصیل کے رہائشی بتائے جاتے ہیں۔
سرکاری ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے انعام اللہ شاہ مشوانی وزیراعلی ہائوس بلوچستان میں بطور ملازم اپنی خدمات سرانجام دے رہے تھے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، لیویز اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کی بھاری نفری فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئی، جنہوں نے اراضی سے تمام ضروری شواہد اکٹھے کرنے کے بعد ملزمان کی گرفتاری کے لیے پورے علاقے کی ناکہ بندی کر کے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے پسِ پردہ محرکات جاننے کے لیے مختلف پہلوں، بشمول ذاتی دشمنی اور ٹارگٹ کلنگ، سے تفصیلی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے اور جلد ہی قاتلوں کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا۔