بلوچ آزادی پسند رہنما اختر ندیم بلوچ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک پوسٹ میں کوئٹہ میں پر امن بلوچ مظاہرین پر ریاستی کریک ڈائون ،نہتے افراد کے قتل، جبری گمشدگیوں وغیر قانونی گرفتاریوں کے حوالے سے کہا ہے کہ مشرقی تیمور کی قریب ایک ملین آبادی کی 2 لاکھ افراد قتل اور جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا لیکن قوم صفحہ ہستی سے نہیں مٹ سکی اور اس نے اپنی آزادی حاصل کرلی ۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان جیسی دہشتگرد ریاست اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ وہ اپنی طاقت اور زورآزمائی کے ساتھ بلوچ قوم کی نسل کشی و جبری گمشدگی سے تحریک آزادی کو روک سکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور اس کے بوٹ پالشے کرائے کے قتل بلوچ قوم کو نہیں روک سکتی ۔
اختر ندیم نے کہا کہ بلوچ قوم پر ڈھائے جانے والے ظلم و بر بریت پر نام نہاد انسانی حقوق ادارے اور انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کی خاموشی تاریخ کے پنوں میں صاف عیاں ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج بلوچ مائیں بہنیں اپنے کمسن پیاروں پر تشدد اور ان کی شہادت کو کھبی نہیں بھول سکتیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچ قوم نے بھی رول گیم چینج کردیا ہے ۔پاکستانی ریاست بلوچ کی کھاری ضرب کو نہ بھولے ،خون کا بدلہ بلوچ قوم کی میراث ہے۔