بلوچ جبری گمشدگیوں کیخلاف احتجاج جاری، لاپتہ عبدالغفار کے کوائف وی بی ایم پی کے سپرد

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیرمین نے اپنے بیان میں کہا کہ جبری لاپتہ عبدالغفار کی کوائف انکے والدہ نے وی بی ایم پی کے پاس جمع کرادیئے۔

بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں بلوچ جبری گمشدگیوں کے خلاف جاری احتجاجی کیمپ کو 5653 دن ہو گئے ۔

بی ایس او کے سابقہ چیئرمین زبیر بلوچ وکلابرادری سے ایڈووکيٹ چنگیز حئی بلوچ، ایڈووکيٹ محمدحسن مینگل اور دیگر نے کیمپ آکر اظہار یکجہتی کی ۔

وی بی ایم پی کے وائس چیئرمین ماماقدیر بلوچ نے کہاکہ ہر دن ہر مہینہ پورے سال محکوم قوم کےلیے ایک جیسا ہوتاہے روز لاشوں کاملنا کسی کے گھرکےچراغ کا بجھ جانا اب روز کا معمول بن چکاہے باقی مہینوں کی طرح اگست ستمبر میں بھی اُسی طرح لاشوں کاملنا جبری اغوا ہونا یا ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کی ٹارگٹ سے شھید کرنا جاری رہا اور جس میں عالمی سامراجیت کے زیر سایہ تسلط تشدد کا دماغ بیل پڑنے کے بعد طویل عرصے سے استحصالیت اور خونیں کھیل کا میلان بننے والے لہولہان وطن بلوچستان اور اس کے مظلوم باسی قابض پاکستان اور اس کے آلہ کار جابر قوتوں کے رحم کرم پر غیرانسانی رویوں اور نت نئی سازشوں کا شکار ہیں۔ انسانیت سوز مظالم نسل کشی کارروائیاں جبری اغوا کاریاں اور ماورائے عدالت قانون بےدریغ شھادت عام سامراجیت قبضہ گیریت کو برقرار رکھنے کے موثر ترین ذرائع قرار پائے ہیں۔

ماما قدیر بلوچ نے مزید کہاکہ متعین منظور نظر چیدہ چیدہ لوگوں کوفائدہ پہچانےکا سیاسی شعبہ بازی پر مبنی حربہ ہے ان حالات میں جہاں اپنی سرزمین پر بلوچ قوم کی جان مال اور عزت وآبرو محفوظ نہیں کھٹ پتلی حکمران آئے اور روز برآمد ہونے والے مسخ شدہ لاشیں اور بلوچ مائوں بہنوں کی غیرت کی دفاع سے کوئی سروکار نہیں رہا ۔انہیں صرف استحصالیت اور قوم دشمنی کے بدلے اپنی پرتعیش زندگی کا پڑاہوہے جیسے بدنیتی دشمنی اور بوکھلاہٹ میں چند آوارہ لوگ گردان کر نظریہ فکری عمل اور جبری لاپتہ افراد کی بازیابی میں بلوچ سماجی میں وجود تک سے انکار کرکے حالات کو ذہنی خرابی جیسے بیہودہ لفظ سے چھپانے میں اپنے آقائوں کا اعتماد بڑھانے اور دل جینے کی جتن میں مصروف کار ہیں۔

دوسری جانب وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نے اپنے بیان میں کہا کہ جبری لاپتہ عبدالغفار کی کوائف انکے والدہ نے وی بی ایم پی کے پاس جمع کرادیئے۔

ان کا کہنا تھا کہ بی بی خدیجہ نے تنظیم سے شکایت کی کہ انکے بیٹے عبدالغفار ولد شیر زمان کو سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں نے رواں ماہ کی 19 تاریخ کو بادینی چوک سریاب سے غیر قانونی حراست میں لے کر جبری لاپتہ کردیا انہوں نے کہا کہ عبدالغفار کو پہلے بھی ملکی اداروں نے دو دفعہ جبری لاپتہ کیا تھا لیکن ایک ایک ماہ حراست میں رکھنےکے بعد چھوڑ دیا تھا اب تیسری مرتبہ پھر عبدالغفار کو فورسز نے جبری لاپتہ کردیا بی بی خدیجہ کا کہنا تھا کہ اسکا ایک بیٹا نعمت اللہ پہلے سے لاپتہ ہے جنہیں 8 دسمبر 2016 کو فورسز نے جبری لاپتہ کردیا جو تاحال لاپتہ ہے جس کا کیس کمیشن میں زیر سماعت ہے اب اسکے دوسرے بیٹے کو بھی جبری لاپتہ کردیا جس کی وجہ سے وہ اور انکا خاندان شدید کرب و اذیت میں مبتلا ہوئے ہیں ۔

نصراللہ بلوچ نے کہا کہ تنظیمی سطح پر بی بی خدیجہ کو یقین دھانی کرائی گئی کہ اسکے بیٹے عبدالغفار کے کیس کو حکومت، لاپتہ افراد کے حوالے سے بنائی گئی کمیشن اور اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ برائے جبری گمشدگی کو فراہم کیا جائے گا اور عبدالغفار اور نعمت اللہ کی باحفاظت بازیابی کےلیے ہر فورم پر آواز اٹھائی جائے گی

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ عبدالغفار اور نعمت اللہ کی جبری گمشدگی کا فوری طور پر نوٹس لے اور انکی بازیابی کو یقینی بنا کر خاندان کو زندگی بھر کی اذیت سے نجات دلائے۔

Share This Article