تربت : پروفیسرز کی مزاحمت پریونیورسٹی میں بک اسٹال لگانے کی اجازت

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت میں تربت یونیورسٹی کے انتظامیہ کی جانب سے ایک بار پھر بک اسٹال لگانے کی اجازت نہ دینے پر اور مین گیٹ پر دھکم پیل اور سینئر پروفیسر کی سخت مزاحمت کے بعد انتظامیہ کو فیصلے سے پسپا ہونا پڑا۔

اطلاع کے مطابق پیر کو تربت یونیورسٹی میں شعبہ بلوچی کے زیر اہتمام سید ظہور شاہ ہاشمی کی یاد میں منعقد ہونے والے پروگرام کے دوران دو مختلف پبلشرز کو بک اسٹال لگانے کی اجازت دی گئی تھی، تاہم جب صبح پبلشرز کتابوں کے ہمراہ یونیورسٹی کے گیٹ پر پہنچے تو انہیں یونیورسٹی انتظامیہ کے حکم پر روک دیا گیا اور کتابیں اندر لے جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔

اس دوران اطلاع ملنے پر بلوچی ڈیپارٹمنٹ کے دو سینئر پروفیسر گیٹ پر آئے اور یونیورسٹی انتظامیہ کے اس رویے کی سخت مذمت کرتے ہوئے دونوں پبلشرز کو کتابوں کے ساتھ زبردستی اندر لے گئے، پروفیسرز کی مزاحمت کے باعث یونیورسٹی انتظامیہ کو پسپا ہونا پڑا۔

تربت یونیورسٹی کے طلبہ نے کتابوں کے اسٹال کی ممانعت پر افسوس کا اظہار کیا اور یونیورسٹی کی موجودہ انتظامیہ کے اس رویے کو غیر علمی اور علم دشمن کہتے ہوئے گورنر بلوچستان سے ایکشن لینے کا مطالبہ کیا۔

یاد رہے کہ تربت یونیورسٹی اس سے قبل بھی کئی مرتبہ یونیورسٹی کے اندر بک اسٹال لگانے پر اسی طرح کی رویے کا مظاہرہ کرچکی ہے جس کی مخالفت میں طلبہ نے آواز بلند کی ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کے آج ہونے والے اس غیر علمی رویے کی ہر سطح پر مخالفت کی جارہی ہے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment