تربت یونیورسٹی انتظامیہ کا رویہ تعلیم دشمنی پر مبنی ہے،آل پارٹیز

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

آل پارٹیز کیچ نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ تربت یونیورسٹی سب کا ایک مشترکہ اثاثہ ہے یہ ادارہ مکران اور دیگر علاقوں سمیت بالخصوص کیچ کے لیے کسی نعمت عظیمہ سے کم نہیں ہے مگر گزشتہ چند دنوں سے پے در پے پیش آنے والے چند واقعات نے اس ادارے کی انتظامیہ پر سوالات کھڑے کردیئے ہیں جو ایک یونیورسٹی کی نیک نامی اورترقی کے بجائے نا صرف ان کا بلکہ پورے سماج کے لیے ندامت کا سبب بن رہےہیں۔

ترجمان نے کہاکہ یونیورسٹی میں کتب اسٹالز پر پابندیوں کے بعد علمی وادبی سرکلز پر پابندیاں اور بلوچستان کے معروف علمی وادبی شخصیت و ادیب اور بلوچستان یونیورسٹی میں شعبہ براہوئی کے چیئرمین اور تربت یونیورسٹی کی سنیٹ کمیٹی کے ممبر پروفیسر منظور بلوچ کو روکنے کے بعد آج تربت پریس کلب کے صحافیوں کے ساتھ ہتک آمیز رویہ انتہائی افسوس ناک واقعات ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ پروفیسر منظور بلوچ کا ہمارے سماج میں ایک اہم رول ہے اس کے علاوہ وہ ایک استاد ہیں جب کہ دوسری جانب تربت پریس کلب کے صحافیوں کے ساتھ ہتک آمیز رویہ بھی انتہائی افسوس ناک اور غیر علمی رویہ ہے صحافیوں کا معاشرے میں اہم کردار ہے ان کے ساتھ نامناسب رویہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ یونیورسٹی پر ایک مخصوص زہنیت کے حامل گروپ کا قبضہ ہے جو علمی ادبی اور تنقیدی زہنوں سے گھبراہٹ کاشکارہے۔

آل پارٹیز کیچ ایسے رویوں کی سختی سے مذمت کرتے ہوئے انہیں یونیورسٹی سمیت تعلیم دشمنی سے تعمبیر کرتی ہے، یونیورسٹیاں قوموں کی زہنی ترقی وتعمیر میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، طلبہ کو علمی و تنقیدی مطالعہ ومباحثہ کی اجازت نہ دینا اور یونیورسٹی میں وزٹ کرنے والوں کو روکنا اور بلاوجہ تنگ کرنا ہمارے علمی وعلاقائی اور قومی روایات کے ساتھ ساتھ بنیادی انسانی حقوق سے بھی متصادم ہے۔

آل پارٹیز کیچ تربت یونیورسٹی کے انتظامیہ کے اس رویے کی مذمت کرتی ہے اور طلبہ کو پرامن و علمی ماحول میں تعلیمی سرگرمیاں آگے بڑھانے کا مطالبہ کرتی ہے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment