کوئٹہ میں بلوچ لاپتہ افراد لواحقین کے احتجاج کو 5114 دن مکمل

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں بلوچ جبری لاپتہ افراداور شہدا کے لواحقین کابھوک ہڑتالی کیمپ جاری ہے جسے آج5114 دن ہو گئے ہیں ۔

کوئٹہ سے پی ٹی ایم کے کارکن عبدالقیوم کاکڑ سلطان اور دیگر نے کیمپ آکرلواحقین سے اظہار یکجہتی کی۔

وی بی ایم پی کے وائس چیرمین ماماقدہر بلوچ نے وفد سے کہا کہ بلوچستان پر پاکستانی جبری قبضے سے لیکر تاحال پاکستان بلوچ پشتون سندھی عوام کو زیر کرنے کی کوشش میں مصروف ہے کبھی مراعات ترقی کے دعواوں کے ساتھ تو کبھی مذاکرات تو کبھی کی جارحیت آپریشن جبری اغوا نما گرفتاری بلوچ پشتون سندھی سیاسی کارکنوں اور کی ٹارگٹ کلنگ اور عام آبادیوں بمباری جیسے طریقہ کار اپناتا رہا ہے 2009 سے پاکستان ایک نئے طریقہ کاکڑ کو اپناتا تاکہ بلوچ پشتون سندھی عوام کو خوف حراس میں رکھ کر اپنی استحصالی پالیساں جاری رکھ سکے۔

سیاسی کارکنوں کو جبری اغوا کرکے دنوں مہینوں سالوں تک تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد ان کو شہید کر کے پھر ان کی لاشوں کو مسخ کرکے بلوچستان حکمرانوں کے اس بلوچ نسل کشی کے نئے چال کو جاننا چائے کہ جب وہ غیر اعلانیہ طور پر بلوچوں کو جبری اغوا شیر خوار بچوں خواتین پر کیمیائی ہتھیاروں سے بمباری کرکے ان کے گھروں کو ڈائنامائٹ سے اڑتا ہے تو اب وہ کیا کرنےوالا ہے یہ جاننا از حد ضروری ہے ۔

یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ اب صرف پاکستان نے بلوچوں پر ایٹم نہ برسائے ہیں باقی تمام حربے آزما چکا ہے جس سے اسے خاطر خواہ ناہدہ نہیں پہنچا ہے پاکستان کے شر پسندی سے بلوچ اور عالم انسانیت کو چھٹکارہ دلانے کے لیے ضروری ہے کہ اقوام متحدہ فوری مداخلت کرکے اور چار ٹر کے مطابق بلوچ اور بلوچستان میں انسانی پامالی کے خلاف پاکستان پاکستان کو دنیا اور انسانیت کے بقا کی خاطر ناکام ریاست قرار دے تاہم بلوچوں سے اپیل ہے وہ اس یکجہتی مزید مضبوط کرکے دنیا کو باور کرئیں کہ بلوچ سیکولر اور تہذیب یافتہ ہونے کے علاوہ وسیع عریض جغرافیہ کے مالک بھی ہیں۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment