فورسز نے ایک ہفتے میں ڈیرہ بگٹی سے قریباً30 افرادجبراً لاپتہ کئے،وی بی ایم پی

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں بلوچ جبری لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 5011 دن ہوگئے ہیں ۔

گوادر سے تعلق رکھنے والے سیاسی اور سماجی کارکنان ماجد بلوچ، خیر محمد بلوچ، منظور بلوچ اور دیگر نے لواحقین سے آکر اظہارِ یکجہتی کی۔

اس موقع پر ماما قدیر بلوچ نے وفد سے مخاطب ہو کر کہا کہ بلوچستان میں پاکستان آرمی اور خفیہ اداروں اور دیگر ایجنسیوں کے مظالم سے ہر ذی شعور انسان آگاہ ہے کہ کس طرح مسلمانیت کے لبادے میں چھپے پاکستانی فورسز آئے روز بلوچ نوجوانوں بزرگوں کے جبری اور مسخ شدہ لاشوں کے ذریعے انسانیت کی دھجیاں اڑاہی ہیں، مظالم کی ایسی داستانیں کہ انسانیت کانپ جاتی ہے۔ ایک ہفتے کے اندر ڈیرہ بگٹی کے دلایا سوئی سے تیس کے قریب بگٹی بلوچوں کو جبری اغوا کیا گیا ہے۔

ماما قدیر نے کہا کہ آج بلوچ بھی انہی تاریخی بد سلوکی اور عالمی استعمار کے ظلم کا شکار ہے. جہاں انسانیت سوز ظلم و جبر کی طرف سے عطا کردہ حق کی لڑائی میں بلوچیت کے لبادے میں خود سر دانشور بھی قابض ریاست کے بین پر سرمست ہوتے ہیں. دیسی دانشوروں کے سر میں ایک ایسی انفرادیت پسند معاشرے کا تصور ٹھونس دیا جاتا ہے۔ آج کے جدید دور میں نام نہاد قابض کے دانشوروں کے ساتھ ہمارے دیسی دانشوروں کی خود نمائ، نرگسیت، انفرادیت پسندی فیسبک اوردیگر سوشل میڈیا نیٹ ورکس پر صاف دیکھا جاسکتاہے۔ آج عالمی میڈیا بلوچ نسل کشی پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں 1945 میں 45 ہزار انسانوں کے قتل پر کوئی توجہ نہیں دی گئی، 1947 میں مڈغاسکر کے 90 ہزار اموات اخباروں میں محض ایک مختصر پیراگراف کی جگہ بنا سکے، 1952 کے دو لاکھ جبر و تشدد کے شکار انسانوں کم و بیش لا تعلقی کا سلوک کیاگیا۔

انہوں نے کہا کہ آج کے دور خو انٹرنیٹ مشینری سہولیات کا تاریخ ساز دور کہا جاتاہے۔ مگر بلوچ کے ہزاروں فرزندوں کی گمشدگی و ہلاکتوں پر خاموشی عالمی سامراجیت کی کڑیاں ہیں۔ بلوچ نے آج تک کسی قوم یا ریاست کو یہ نہیں کہا کہ آئیں ہمیں حق دلائں، اس لیے کہ کوئ کسی کے لئے حق کا سامان نہیں کرسکتا۔ بلوچ اپنے حقوق کے لئے اسی دنیا کے بنائے گئے قوانین کے تحت لڑرہا ہے اور عالمی قوانین اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق بلوچ نسل کشی پر پاکستانی ریاست سے نہیں بلکہ عالمی امن کے چیمپین سے کہہ رہی ہے کہا اپنی بناء گئ قوانین کا خیال کریں ۔ لاکھ ظلم و جبر سہی مگر بلوچ اپنی صفوں کو مظبوط کر کے اس غلامی کے خلاف برسرپیکار ہیں ۔

Share This Article
Leave a Comment