بلوچ لاپتہ افراد لواحقین کااحتجاجی کیمپ 4915دنوں سے جاری

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں بلوچ جبری لاپتہ افراداور شہدا کے لواحقین کی بھوک ہڑتالی کیمپ جاری ہے جسے اب تک 4915دن مکمل ہوگئے ہیں۔

پشین سے جلیل احمد کاکڑ خدا بخش کاکڑ اور ہر مکتبہ فکر کے لوگوں نے کیمپ آکر لواحقین سے اظہار یکجہتی کی۔

وی بی ایم پی کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے وفد سے مخاطب ہو کر کہا کہ بلوچستان سے متعلق متعدد ممالک کے قانون سازوں کا اجتماع یورپین ممالک اور اقوام متحدہ میں منعقد ہوا جس میں پاکستان کی جانب سے بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں مارو پھینکو کی بلوچ پشتون نسل کشی پالسیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی اور کہا کہ جبری گمشدگی اور لاشوں کا پھینکنا نا قابل قبول عمل ہے جسے کسی بھی طرح برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بین الاقوامی برادری کے کردار ادا کرنے کو انتہائی ناگزیر کرار دیتے ہوئے کہا کہ تمام مسائل کا حل جبری لاپتہ افراد کی بازیابی میں مضمر ہے۔ بین الاقوامی برادری کو اس سلسلے میں کردار ادا کرنا چاہیے۔

ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ بلوچ پشتون عوام کو قریب ساتھ دہائیوں سے پاکستانی جبر کا سامنا ہے۔ پاکستان بلوچ پشتون عوام کا اعتماد کھو چکا ہے،بلوچ پشتون پر امن سرگرمیوں کو توپوں فضائی حملوں کے ذریعے دبانے کی کوشش کی جاتی رہی۔ انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے معتبر تنظیمیں جیسا کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور بگڑتی ہوئی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور اپنی رپورٹس جاری کرتے رہے ہیں۔

انہوں نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان پر دباؤ ڈالے۔

ماماقدیر نے بلوچستان میں تباہ کن آپریشنوں میں فوج ایف سی بلوچ پشتون کو جبری گمشدہ کرنے اور ان کی مسخ شدا لاشیں پھینکنے کی مذمت کی اور کہا کہ بلوچستان میں بلوچ پشتون کا قتل عام ہو رہا ہے۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں سے آئے روز بلوچوں پشتونوں کو جبری اغوا کیا جا رہا ہے ان علاقوں میں پاکستانی فوج ایف سی نے آپریشن شروع کر رہا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment