بلوچ دھرتی پر پاکستان اپنی قبضہ گیریت کا سکت کھوتا جا رہا ہے، ماماقدیر

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں بلوچ جبری لاپتہ افراد اورشہدا کے لواحقین کی بھوک ہڑتالی کیمپ کو 4890 دنوں سے جاری ہے۔

مختلف سیاسی اور سماجی کارکنان نے کیمپ آکر لواحقین سے اظہار یکجہتی کی۔

اس موقع پر وی بی ایم پی کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے وفود سے مخاطب ہو کر کہا کہ بلوچ دھرتی پر پاکستان اپنی لڑکھڑاتی قبضہ گیریت کا سکت کھوتا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچ وطن پر جاری جمہوری سیاسی جدوجہد کی بے دریغ عوامی حمایت نوآبادیاتی ڈھانچے کی حالات زار اور بلوچستان بھر میں سیاسی شعوری سرگرمیوں میں اضافے جہاں ریاستی عملدادری کو درپیش چیلنجز کے سبب انہیں معاشی زیوں حالی اور شدید نوانائی بحران کا سامنا ہے۔

ماما قدیر بلوچ نے مزید کہا ہے کہ بلوچ پرامن جدجہد کا جس کا سیاسی شعور سے بلوچ خواتین کی بنیادی ذمہ داری حقوق کا تعین کیا اور انہیں برابر کردار ادا کرنے سے متعلق ذمہ داریوں کا احساس دلایا اور پرامن جدوجہد میں شامل ہونے کا حوصلہ دیا جس کی واضع مثال آج رہنما بانک کریمہ بلوچ، فریدہ بلوچ بانک حوران بلوچ اور ہزاروں دیگر بلوچ خواتین کی پرامن جدوجہد میں عملی کردار ہے دوسری طرف غیر مذہب انسانیت انسانی حق کا دشمن پاکستان افواج خفیہ ادارے بلوچ قوم پر جاریت شدت کے ساتھ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ دس 10 دسمبر انسانی حقوق کا عالمی دن یا آٹھ مارچ یوم ء خواتین پاکستان انہیں خاطر میں لانے کے بجائے روایتی سرکشی کے تحت اپنی سامراجیت استحاریت کو برقرار رکھا ہوا جس کی تازہ مثال خواتین بچوں کو بدترین تشدد کا نشانہ بنانا ہے جبکہ شہید گلناز مری جیسی درجنوں بلوچ خواتین پاکستانی فورسزز کے ہاتھوں شہید اور زرینہ مری کی طرح کئی بلوچ عورتیں تاحال دشمن کی گمنام عقوبت خانوں میں درندگی کا شکار ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment