پاکستان کے قومی اسمبلی میں وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کاسیشن جاری ہے لیکن حکومتی کی جانب سے ووٹنگ کیلئے تاخیری حربے استعمال کئے جارہے ہیں۔
اپوزیشن نے دعویٰ کیا ہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے عمران خان کیخلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کیلئے انکار کردیا ہے۔
جبکہ سپریم کورٹ کا حکم ہے کہ ووٹنگ آج ہی کرانا ہے۔
اپوزیشن کے مطابق اسپیکر کا کہنا ہے وہ کسی بھی صورت میں عمران خان کیخلاف ووٹنگ نہیں کرائینگے۔
اپوزیشن کا کہنا ہے کہ اسد قیصر نے انہیں کہا ہے کہ عمران خان کے ساتھ ان کا تیس سال کا تعلق ہے جسے وہ ختم نہیں کرسکتے۔اس کیلئے اگر وہ نااہل قرار دیئے جائیں یا اس پر توہین عدالت لگے وہ ہر طرح کے مشکلات کا سامنا کرنے کیلئے تیار ہیں۔
ذرائع بتاتے ہیں اپوزیشن اراکین کے ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے چار مختلف وفود الگ الگ اوقات میں آج قومی اسمبلی میں اسپیکر کے چیمبر میں ان سے ملاقات کرچکے ہیں۔
سپریم کورٹ کی طرف سے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کو غیر آئینی قرار دیے جانے کے بعد قومی اسمبلی کا اہم اجلاس آج ہورہا ہے تاہم اب تک تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کا مرحلہ نہیں آسکا۔
قومی اسمبلی کا اجلاس صبح ساڑھے 10 بجے شروع ہوا۔
کچھ دیر بعد ساڑھے 12 بجے تک کا وقفہ لیا گیا۔ ساڑھے 12 بجے بھی اجلاس شروع نہیں ہو سکا، قومی اسمبلی کا اجلاس ڈھائی بجے دوبارہ شروع ہوا۔ ڈھائی بجے اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو اپوزیشن کے مطالبے کے باوجود بھی ووٹنگ نہیں کروائی گئی اور اس دوران ارکان اسمبلی لمبی لمبی تقریریں کرتے رہے جس کے بعد اسپیکر اسد قیصر نے شام 5 بجے نماز عصر کیلئے اجلاس میں دوبارہ وقفہ لیا، نماز کے بعد اجلاس شروع ہوا تو اسے دوبارہ ساڑھے 7 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔
اب 8بجے ووٹنگ کا ٹائم دیا گیا ہے لیکن اسپیکر کے انکار کے بعد شاید ووٹنگ کا عمل ممکن نہ ہوسکے۔