بلوچستان کے ضلع گوادر کے ساحلی تحصیل اورماڑہ میں فش کمپنیوں کے گندے پانی سے ماہی گیروں کی گزرگاہیں متاثر ہوگئی ہیں۔
اورماڑہ عوامی اتحاد کے رہنماؤں نے علاقے کے ماہی گیروں کے ہمراہ فش کمپنیوں کے گندے پانی سے متاثرہ گزرگاہ کا دورہ کیا اور ماہی گیروں کو درپیش مشکلات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں سے فوری نوٹس لینے اور مسئلے کا مستقل حل نکالنے کا مطالبہ کیا۔
اورماڑہ عوامی اتحاد کے بیان کے مطابق مذکورہ گزرگاہ ماہی گیروں کے لیے سمندر تک آمدورفت کا ایک اہم راستہ ہے، تاہم فش کمپنیوں سے خارج ہونے والے گندے پانی کے باعث اس راستے پر آمدورفت میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔
دورے کے دوران اتحاد کے رہنماؤں اور ماہی گیروں نے مشاہدہ کیا کہ متاثرہ مقام پر جمع پانی بظاہر فش کمپنیوں کے سیوریج کا پانی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ مختلف کمپنیوں کے اطراف جائزے کے دوران پانی کے رنگ اور حالت میں تبدیلی بھی دیکھی گئی، جس سے سیوریج کے پانی کی آمیزش کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔
عوامی اتحاد کے مطابق آلودہ پانی سے گزرنا ماہی گیروں کے لیے مشکلات کے علاوہ انسانی صحت کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔ اتحاد نے مطالبہ کیا کہ فش کمپنیاں اپنے گندے پانی کی مناسب نکاسی کے لیے سیپٹک ٹینکس تعمیر کریں اور انہیں فعال رکھیں تاکہ سیوریج کا پانی کھلے عام نہ چھوڑا جائے۔
بیان میں محکمہ ماحولیات اور میونسپل کمیٹی اورماڑہ سمیت متعلقہ اداروں کی جانب سے اس مسئلے پر مبینہ عدم توجہی پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا کہ اداروں کی عدم سنجیدگی علاقے کے لوگوں کی صحت اور ماہی گیروں کے مسائل کے حوالے سے مزید خدشات پیدا کر رہی ہے۔
اورماڑہ عوامی اتحاد اور مقامی ماہی گیروں نے اس مسئلے کے حل کے لیے مشترکہ طور پر عملی کوششیں کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
اتحاد نے محکمہ ماحولیات اور میونسپل کمیٹی اورماڑہ سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر معاملے کا نوٹس لے کر مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ اسسٹنٹ کمشنر اورماڑہ سے بھی اپیل کی گئی کہ وہ مداخلت کرتے ہوئے ذمہ داروں کو گندے پانی کی نکاسی کا مناسب اور مستقل انتظام کرنے کا پابند بنائیں، تاکہ ماہی گیروں کی مشکلات کا خاتمہ ہو اور مقامی آبادی کی صحت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔