بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ اور پنجگور سے پاکستانی فوج و خفیہ اداروں نے مزید 3 بلوچ نوجوانوں کو جبری لاپتہ کردیا ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کے جاری کردہ ڈیٹاکے مطابق پاکستانی فوج، ایف سی، انٹیلی جنس اداروں (ISI/MI) اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) نے کوئٹہ اور پنجگور کے مختلف علاقوں سے مزید تین بلوچ شہریوں کو جبری طور پر لاپتہ کر دیا ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مطابق، پنجگور کی تحصیل پروم کے علاقے جاہین کے رہائشی 35 سالہ دکاندار رحم دل بلوچ ولد محمد صالح کو 24 اکتوبر 2026ء کو شام 4:30 بجے ریش پیش ایف سی کیمپ، پروم (پنجگور) کے مقام سے فرنٹیئر کور (FC) اور ملٹری انٹیلی جنس (MI) کے اہلکاروں نے حراست میں لے کر لاپتہ کر دیا۔
دوسرے واقعے میں، کوئٹہ کے علاقے مانو جان روڈ، ہدہ کے رہائشی 25 سالہ ریڑھی بان (Vendor) محمد اعظم ولد خدا داد کو 20 اگست 2026ء کو رات 1:00 بجے الائیڈ اسکول کے قریب، ایئرپورٹ روڈ کوئٹہ سے آئی ایس آئی (ISI) اور سی ٹی ڈی (CTD) کے اہلکاروں نے حراست میں لے کر نا معلوم مقام پر منتقل کیا۔
تیسرے واقعے میں، کوئٹہ کے کیرانی روڈ کے رہائشی 28 سالہ دکاندار ظفر بلوچ ولد حاجی غلام محمد کو 16 اکتوبر 2026ء کو رات 3:00 بجے کیرانی روڈ کوئٹہ میں ان کے گھر کے قریب سے ایم آئی (MI) اور سی ٹی ڈی (CTD) نے دوسری بار جبری طور پر لاپتہ کر دیا ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی نے اپنے سوشل میڈیا کمپین #EndEnforcedDisappearances کے تحت ان بڑھتے ہوئے واقعات کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور تمام لاپتہ شہریوں کی فوری، محفوظ بازیابی اور عدالتوں میں پیشی کا مطالبہ کیا ہے۔